حیات طیبہ — Page 231
231 ایک دوا تیار فرمائی۔جس کا نام ” تریاق الہی رکھا اور طاعون کی گلٹی اور زخم پر لگانے کے لئے ایک دوا تیار فرمائی جس کا نام مرہم عیسی رکھا۔اس موخر الذکر دوا کا نسخہ طب کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے لئے یہ لکھا ہے کہ یہ وہ دوا ہے جوصلیبی واقعہ کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کے زخموں پر لگانے کے لئے حواریوں نے تیار کی تھی۔اسی وجہ سے علاوہ اور کئی ناموں کے اس دوا کا ایک نام ” مرہم حوار بین بھی ہے۔کتاب امہات المومنین کے متعلق ایک میموریل ۴ رمئی ۱۸۹۸ء ایک عیسائی احمد شاہ نے ایک نہایت ہی گندی اور دل آزار کتاب امہات المومنین کے نام سے شائع کی۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کی ازواج مطہرات کی شان میں بہت بڑی گستاخی سے کام لیا گیا تھا۔جب وہ گندہ دہن شخص ایک ہزار کتاب مسلمانوں میں مفت تقسیم کر چکا۔تو انجمن حمایت اسلام لاہور نے گورنمنٹ پنجاب کی خدمت میں ایک میموریل بھیجا۔جس میں اس کتاب کی ضبطی کا مطالبہ کیا۔حضرت اقدس کو جب اس میموریل کا علم ہوا تو حضور نے اسے نا پسند فرمایا اور خود ایک میموریل تیار کر کے گورنمنٹ کو بھیجا۔اور اہل اسلام کو بھی توجہ دلائی کہ جبکہ اس کتاب کی ایک ہزار کا پی مسلمانوں میں مفت تقسیم کی جا چکی ہے تو اب اس کتاب کے ضبط کئے جانے کا کیا فائدہ۔اب تو اس کتاب کا جواب لکھ کر اُسے مسلمانوں میں مفت تقسیم کرنا چاہئے۔تا ان کے زخموں کے لئے مرہم کا کام دے۔حضور نے یہ بھی فرمایا کہ پادریوں نے اس قسم کی سینکڑوں کتابیں مسلمانوں کا دل دکھانے اور ان کے جذبات کو مجروح کرنے کے لئے شائع کی ہیں۔اس کا علاج تو یہ ہے کہ ان کا ترکی بہ ترکی جواب دیا جائے اور اگر گورنمنٹ اس طریق کو نا پسند کرتی ہے تو اُسے آئندہ کے لئے مذہبی مناظرات میں دلآزار اور ناپاک کلمات کے استعمال کو حکماً روک دینا چاہئے۔وغیرہ وغیرہ ا افسوس ہے کہ گورنمنٹ پنجاب نے نہ تو انجمن حمایت اسلام کے میموریل کی کچھ پرواہ کی اور نہ ہی حضرت اقدس کے میموریل کے مطابق سخت اور دل آزار الفاظ کے استعمال کو روکنے کی طرف توجہ کی اور اس کی وجہ یقیناً وہی ہوگی جس کا ہم اوپر ایک جگہ ذکر کر آئے ہیں کہ گورنمنٹ کے ہم مذہب پادری دوسرے مذاہب پر حملہ کرنے کے بغیر اپنے مذہب کی تبلیغ کر ہی نہیں سکتے تھے مگر جب پانی حد سے گزر گیا تو بہت لمبے عرصہ کے بعد دفعہ ۵۳ اب کے ما تحت بانیانِ مذاہب کی تو ہین قانونا جرم قرار دی گئی۔لے دیکھئے اشتہار ۴ رمئی ۱۸۹۸ء