حیات طیبہ — Page 229
229۔سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب : یہ اڑتالیس صفحات کا رسالہ جو ۲۲ جون ۹۷ء کو شائع ہوا۔لاہور مشن کالج کے ایک عیسائی پروفیسر سراج الدین کے چار سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے۔جلسه سالانه ۱۸۹۷ء یہ جلسہ کرسمس کی تعطیلات میں منعقد ہوا۔اس میں حضرت اقدس کی تین تقریریں۔حضرت حکیم حاجی مولانا نورالدین کی ایک اور حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کی دو تقریریں ہوئیں۔یہ تقریریں چھپی ہوئی موجود ہیں اور ان میں حقائق و معارف کا ایک دریا ہے جو بحر ذخار کی طرح موجیں لے رہا ہے۔صعود و نزول حضرت مسیح کے متعلق حدیث پیش کرنے والے کو میں ہزار روپیہ تاوان ادا کرنے کا اعلان یہ عجیب بات ہے کہ مولوی صاحبان تو حضرت اقدس پر کفر کے فتوے لگاتے تھے اور حضور انہیں مختلف طریقوں سے بار بار علمی تحقیق کی طرف بلاتے تھے۔حضرت اقدس کے اس طرز عمل پر کوئی معقول راہ اختیار کرنے کی جگہ وہ غیظ و غضب میں اور بھی ترقی کر جاتے تھے۔۲۴ / جنوری ۱۸۹۸ء کو کتاب البریہ شائع ہوئی۔اس میں حضرات علماء کو مخاطب کر کے آپ نے ایک اعلان فرمایا کہ: پھر اگر پوچھا جائے کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے؟ تو نہ کوئی آیت پیش کر سکتے ہیں اور نہ کوئی حدیث دکھلا سکتے ہیں۔صرف نزول کے لفظ کے ساتھ اپنی طرف سے آسمان کا لفظ ملا کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں مگر یادر ہے کہ کسی حدیث مرفوع متصل میں آسمان کا لفظ پایا نہیں جاتا اور نزول کا لفظ محاورات عرب میں مسافر کے لئے آتا ہے اور نزیل مسافر کو کہتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ملک کا بھی یہی محاورہ ہے کہ ادب کے طور پر کسی وارد شہر کو پوچھا کرتے ہیں کہ آپ کہاں اُترے ہیں۔اور اس بول چال میں کوئی بھی یہ خیال نہیں کرتا کہ یہ شخص آسمان سے اترا ہے۔اگر اسلام کے تمام فرقوں کی حدیث کی کتابیں تلاش کرو تو صحیح حدیث تو کیا وضعی حدیث بھی ایسی نہیں پاؤ گے جس میں یہ لکھا ہو کہ حضرت عیسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر کسی زمانہ میں زمین کی طرف واپس آئیں