حیات طیبہ

by Other Authors

Page 228 of 492

حیات طیبہ — Page 228

228 ڈال دیتے ہیں لیکن اگر حضرت اقدس کا پیش کردہ میموریل منظور کر لیا جاتا۔تو ایک تو اسلام کی اشاعت کا رستہ کھل جا تا اور دوسرے مذاہب باطلہ اپنی موت آپ مر جاتے۔مگر حکومت عیسائیوں کی تھی۔وہ خوب جانتی تھی کہ اگر یہ تجاویز منظور کر لی جائیں تو پادری صاحبان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے اور اسلام ترقی کر جائے گا ،مگر اس کو کیا پتہ تھا کہ اسلام کی اشاعت کے لئے تو آسمانی سامان پیدا ہو چکے ہیں۔لہذا زمینی ذرائع اگر جواب بھی دے دیں تو بھی اسلام بڑھے گا اور پھلے پھولے گا اور دنیا کی کوئی طاقت بھی اس کے راستہ میں حائل نہیں ہو سکے گی۔تصانیف ۱۸۹۷ء ۱- اشاعت انجام آتھم : اس کتاب کا مضمون اس کے نام سے ظاہر ہے۔۲۔تصنیف و اشاعت استفتاء: اس کتاب میں حضرت اقدس نے پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی کے کل حالات شروع سے لے کر آخر تک بیان کئے ہیں اور اسے بڑے بڑے سمجھدار اور معقول لوگوں کو بذریعہ ڈاک بھیج کر اُن سے دریافت کیا ہے کہ اب تم بتاؤ کہ پیشگوئی صفائی کے ساتھ پوری ہوئی ہے یا نہیں؟ اس پر چار ہزار کے قریب لوگوں نے تصدیقی دستخط کئے ہیں ان میں سے کچھ دستخط تریاق القلوب میں نقل کئے گئے ہیں۔۳- سراج منیر : اس کتاب میں حضرت اقدس نے اپنے سینتیس "نشانات جو پورے ہو چکے ہیں درج فرمائے ہیں اور عبد اللہ آتھم اور پنڈت لیکھرام والی پیشگوئیوں پر بھی مزید روشنی ڈالی ہے۔نیز خواجہ غلام فرید صاحب سجادہ نشین چاچڑاں شریف کے تین خطوط بھی اس میں درج فرمائے ہیں۔۴۔تحفہ قیصریہ: اس کتاب کا مضمون اس کے نام سے ہی ظاہر ہے اس میں قیصرہ ہند“ کو اسلام کی تبلیغ کی گئی ہے۔۵ - حجتہ اللہ : یہ حضرت اقدس کی ایک عربی تصنیف ہے۔جس کا اعلان حضور نے ۱۷ مارچ ۹۷ ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ کیا اور پھر اسے اکتالیس دنوں میں لکھ کر ۲۶ مئی ۹۷ء کو شائع فرما دیا۔اس کتاب میں تمام علماءکو جن میں مولوی عبدالحق غزنوی اور شیخ نجفی خاص طور پر مخاطب تھے۔چیلنج دیا کہ اگر تم میں ذرہ بھر بھی غیرت اور حیا ہے تو تم بھی اکتالیس دنوں میں ایسا ہی ایک رسالہ عربی میں لکھ کر شائع کرو اور پھر مولوی عبداللہ ٹونکی یا کسی اور عربی زبان کے عالم کے سامنے دونوں رسالے پیش کر کے دیکھ لو۔اگر وہ مؤکد بعذاب قسم کھا کر کہہ دے کہ فصاحت و بلاغت اور حقائق و معارف کے لحاظ سے تمہارا مضمون بہتر ہے یا برابر ہی ہے اور پھر وہ قسم کھانے والا میری دُعا کے بعد اکتالیس دن تک عذاب الہی میں ماخوذ نہ ہو۔تو میں اپنی کتا بیں جلا کر جو میرے قبضہ میں ہونگی ان کے ہاتھ پر تو بہ کرلوں گا۔