حیات طیبہ — Page 204
204 اور اصل عید کا دن بھی اس عید کے قریب ہوگا۔پنڈت لیکھرام صاحب کے بار بار نشان طلب کرنے پر حضرت اقدس نے جو نشان اسے دکھانا چاہا۔اس کے متعلق پیشگوئی کافی صراحت کے ساتھ ہم درج کر چکے ہیں۔اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھئے۔پنڈت لیکھرام صاحب چونکہ حضرت اقدس کی پیشگوئیوں کو بالکل ہی نا قابل التفات سمجھتے تھے اس لئے جوں جوں آپ کی طرف سے پیشگوئی کی وضاحت ہوتی گئی۔پنڈت صاحب شوخی و شرارت میں بڑھتے گئے۔وہ اس وہم میں مبتلا تھے کہ جس طرح انہوں نے چند سال قبل حضرت اقدس کے متعلق پیشگوئی کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ: یه شخص ( یعنی حضرت مرزا صاحب) تین سال کے اندر ہیضہ سے مرجائے گا۔کیونکہ (نعوذ باللہ ) کذاب ہے۔“ اور پھر لکھا تھا کہ دو تین سال کے اندر اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی ذریت میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہیگا۔لے اسی طرح حضرت اقدس کی پیشگوئی بھی (نعوذ اللہ ) جھوٹی ثابت ہوگی۔مگر دیکھئے خدائے ذوالجلال کا فیصلہ کہ حضرت اقدس کی پیشگوئی کے پانچویں سال جیسا کہ ایک الہام میں بتایا گیا تھا یقضی آمره في ست یعنی پنڈت لیکھرام کا معاملہ چھ سال میں ختم کر دیا جائے گا کہ مطابق پنڈت صاحب عید الفطر کے دوسرے دن چھ مارچ ۱۸۹۷ء کو شام کے چھ بجے پیشگوئی کے مطابق قتل کئے گئے۔اور اس طرح سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی اپنی طرف سے نہیں بلکہ علام الغیوب خدا کی طرف سے تھی۔واقعات بعد قتل پنڈت لیکھرام صاحب آریہ قوم کے ایک مشہور لیڈر تھے اور حضرت اقدس کی پیشگوئی کا بھی گھر گھر چر چا تھا لہذا جب پنڈت صاحب قتل ہو گئے تو ملک کے طول و عرض میں شور پڑ گیا۔ہندو اخبارات میں یہ واقعہ قتل کھلم کھلا حضرت اقدس کی سازش قراردیا گیا۔آپ کو قتل کی دھمکیوں پر مشتمل گمنام خطوط لکھے گئے۔خفیہ انجمنوں میں قاتل کی نشاندہی کرنے والے اور حضرت اقدس کو قتل کرنے والے کے لئے بڑی بڑی انعامی رقمیں مقرر کی گئیں مگر اس قتل کا لے دیکھئے تکذیب براہین احمدیہ صفحہ ۳۱ مصنفہ پنڈت لیکھر ام صاحب