حیات طیبہ

by Other Authors

Page 203 of 492

حیات طیبہ — Page 203

203 اللہ علیہ وسلم کی شان اور آپ کے کھلے کھلے ٹور کا بھی منکر ہے۔اگر چہ کر امت بے نام ونشان ہے، لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں سے اس کا مشاہدہ کر لے۔“ پھر ۱/۲ پریل ۹۳ء کو حضور نے ایک اشتہار کے ذریعہ اعلان فرمایا کہ آج جو ۱/۲ پریل ۱۸۹۳ ء مطابق ۱۴ ماہ رمضان ۱۳۱۰ھ ہے۔صبح کے وقت تھوڑی سی غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں ایک وسیع مکان میں بیٹھا ہوا ہوں اور چند دوست بھی میرے پاس موجود ہیں اتنے میں ایک شخص قوی ہیکل مہیب شکل گویا کہ اسکے چہرہ سے خون ٹپکتا ہے میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ہے۔میں نے نظر اُٹھا کر دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک نئی خلقت اور شائل کا شخص ہے۔گویا انسان نہیں ملائک شراد وغلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھرام کہاں ہے؟ اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے؟ تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور اس دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے مگر مجھے معلوم نہیں رہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے۔“ 1 پھر آپ نے ۱۸۹۳ ء میں ہی سرسید احمد خان صاحب مرحوم کو اپنی کتاب ”برکات الدعا میں مخاطب کر کے لکھا کہ: ایکہ گوئی گر دُعا ہارا اثر بو دے کجاست سوئے من بشتاب بنمائم ترا چوں آفتاب ہاں مکن انکار زیں انٹر ارقدرتہائے حق قصہ کوتاہ کن ہیں از ما دُعائے مستجاب یعنی اے وہ شخص جو کہتا ہے کہ اگر دعا میں کچھ اثر ہوتا ہے تو وہ کہاں ہے۔میری طرف آ کہ میں تجھے دعا کا اثر سورج کی طرح دکھاؤں گا۔تو خدا تعالیٰ کی بار یک در بار یک قدرتوں سے انکار نہ کر اور اگر دعا کا اثر دیکھنا چاہتا ہے تو آ۔اور میری دعا کا نتیجہ دیکھ لے۔جس کے متعلق خدا نے مجھے بتایا ہے کہ وہ قبول ہوگئی ہے یعنی لیکھر ام کے متعلق میری دُعا۔“ پھر آپ نے اپنی کتاب کرامات الصادقین میں جس کا سن تصنیف ۱۸۹۳ ء ہے لکھا: وبشرني رَبِّي وَقَالَ مُبَشِّرًا سَتَعْرِفُ يَوْمَ الْعِيدِ وَالْعِيْدُ أَقْرَبُ یعنی ” مجھے لیکھرام کی موت کی نسبت خدا نے بشارت دی اور کہا کہ عنقریب تو اس عید کے دن کو پہچان لے گا ا آئینہ کمالات اسلام