حیات طیبہ — Page 122
122 سوم یہ کہ مومن کامل کی اکثر دُعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اکثر ان دُعاؤں کی قبولیت کی پیش از وقت اطلاع بھی دی جاتی ہے۔چہارم یہ کہ مومن کامل پر قرآن کریم کے دقائق و معارف جدیدہ ولطائف و خواص عجیبہ سب سے زیادہ کھولے جاتے ہیں۔ان چاروں علامتوں سے مومن کامل نسبتی طو پر دوسروں پر غالب رہتا ہے۔“ اس آسمانی فیصلہ کے لئے آپ نے مولوی سید نذیر حسین صاحب دہلوی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی۔مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی امرتسری مولوی عبد الرحمن لکھو کے والے۔مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی۔مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کو خاص کر نام لیکر اور باقی تمام مولویوں ، سجادہ نشینوں،صوفیوں اور پیرزادوں کو عام طور پر چیلنج کیا کہ اگر تم کامل مومن ہو اور میں نعوذ باللہ کا فر اور ملحد اور دجال ہوں۔تو یقیناً ان تائیدات سماوی میں اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھ دے گا اور میری ہرگز تائید نہیں کریگا۔نیز اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ تم نے جو دن رات شور مچارکھا ہے کہ پہلے اپنا ایمان ثابت کرو۔پھر ہمارے ساتھ بحث کرو۔تو آؤ! میں اپنا ایمان ثابت کرتا ہوں اور اس طریق پر کرتا ہوں۔جو عین مطابق قرآن و حدیث ہے۔لیکن اسی معیار پر تمہیں بھی اپنا ایمان ثابت کرنا ہوگا۔“ لیکن آپ کے اس چیلنج کو کسی نے قبول نہ کیا۔فتوی کفر علماء نے جب دیکھا کہ ہم اس شخص کا مقابلہ کسی طرح بھی نہیں کر سکتے۔نہ دلائل کے میدان میں اور نہ تائیدات سماوی میں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ دن بدن اس کی بیعت میں شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔تو انہوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ایک گفر کا فتویٰ تیار کیا جائے۔جس پر ہندوستان کے تمام سرکردہ علماء سے تصدیقی مہریں لگوائی جائیں اور پھر اس کی خوب اشاعت کی جاوے۔جب لوگ دیکھیں گے کہ سارے مولویوں نے بالاتفاق اسے کافر قرار دے دیا ہے تو پھر اس کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا۔چنانچہ یہ کام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے سپر د کیا گیا۔انہوں نے تمام ہندوستان میں پھر کر دوسو مولویوں سے کفر کے فتوے حاصل کئے اور غالبا اردو اور عربی کی لغات میں کوئی غلیظ سے غلیظ گالی ایسی نہ ہوگی جو ان علمائے کرام نے آپ کے لئے استعمال نہ کی ہوگی۔بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ بعض ایسی گالیاں بھی ان لوگوں نے ایجاد کیں۔جن کا زبان میں پہلے سے کوئی نام ونشان نہیں ملتا۔تو بے جانہ ہوگا۔میں نے بھی اس فتوے کو بعض بعض جگہوں سے دیکھا ہے۔کوئی شریف انسان اس کو پڑھنے کا روا لو آسمانی فیصلہ صفحه ۱۴ طبع ثانی