حیات قدسی — Page 535
۵۳۵ ایسی کثرت پر دلالت کرتا ہے جو گنتی اور شمار میں نہ آ سکے چنانچہ ایک شاعر نے اپنے ممدوح کے متعلق انہی معنوں میں یہ دونوں الفاظ استعمال کئے ہیں۔وانت كثير يا ابن مروان طيب وکان ابوک ابن الفضائل كوثرا یعنی اے ابن مروان تو بھی بکثرت فضائل رکھتا ہے اور یہ بات اچھی اور پسندیدہ ہے لیکن تیرا باپ ابن الفضائل کی شان رکھتا تھا اور اس کے فضائل اس قدر زیادہ تھے کہ وہ شمار میں نہ آ سکتے تھے۔(۲) سورہ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے کوثر کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بطور عطیہ ذکر فرمایا ہے۔انا اعطینا کے فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے جمع متکلم کی ضمیر استعمال فرمائی ہے اور ضمیر خطاب جس کے مخاطب اصالتاً رسول کریم حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہیں واحد استعمال کی ہے کوثر کے معنی حدیث میں نهر في الجنة یعنی جنت میں ایک نہر بھی فرمائے گئے ہیں بعض حدیثوں میں اسے حوض بھی لکھا گیا ہے۔بعض صحابہ سے یہ مروی ہے کہ کوثر سے مراد دنیا میں جماعت المومنین کی کثرت ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نحر سے مراد نماز کے وقت ہاتھوں کو سینے پر باندھنا اس طریق پر کہ یمین اوپر اور لیسار نیچے ہو بھی لیا ہے۔ابتر کے معنے مقطوع النسل کے ہیں اور اسے ایسا شخص مراد ہوتا ہے جس کے بعد نہ اس کی کوئی اولاد ہوا ور نہ جانشین اور ابتر ایسے منحوس شخص کو بھی کہتے ہیں جو ہر طرح کی خیر و برکت سے بے نصیب ہو۔(۳) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر کے فقرہ میں نماز اور قربانی کے لئے حکم دیا گیا ہے۔جیسے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کے الفاظ میں تشریح پائی جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نماز کا نمونہ ہے اور آپ کی قربانی موت کا نمونہ و رنگ رکھتی ہے اور آپ رب العالمین کی شان کو اپنی نماز اور قربانی سے ظاہر کرنے والے ہیں اور ہر حالت مسرو ئیر میں اللہ تعالیٰ کو ہی زندگی کا سب سے بڑا اور اعلیٰ مقصد سمجھتے ہیں۔اور نماز کے ہر رکن کی نقل و حرکت کے وقت اللہ اکبر کا تکرار محض اس مطلب کے اظہار کے لئے ہے کہ جس طرح نماز کا نقطہ مرکزی اللہ اکبر ہے اسی طرح انسان کی زندگی عبد ساجد کی حیثیت میں