حیات قدسی

by Other Authors

Page 536 of 688

حیات قدسی — Page 536

۵۳۶ گذرنی چاہیئے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا ہونا ہر وقت اس کے سامنے رہنا چاہیئے اور کامل علم و معرفت کے ذریعہ روح اور قلب کے اندر اللہ اکبر کی شان کا پورا احساس ہونا چاہیئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے آفتاب حسن کے سامنے دنیا کا ہر حسن ایسا ہی بے نمود محسوس ہو۔جیسے سورج کے جلوہ نیمروز کے مقابل پرستارے مستور اور بے نمود ہو جاتے ہیں۔اسی طرح اللہ اکبر کی شانِ پر عظمت، دولت، حکومت، محبت و قرابت کے اعتبار سے سب محبوبوں پیاروں رشتہ داروں اور ہوا حاکموں اور بادشاہوں سے زیادہ شاندار محسوس ہو اور لا اله الا اللہ کا وہ تصور جو سید ولد آدم حضرت سید نا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا اور اپنے پاک نمونہ سے ظاہر کیا ہے وہ ہر وقت سامنے ہو یعنی ہر تنگی و آسانی بے کسی و بے سروسامانی میں خدا تعالیٰ کی قدوس ذات ہی سب سے بڑھ کر محبوب ، مطلوب اور مقصود ہو۔پھر دولت و حکومت اور جاہ و حشمت کے حصول پر بھی عملی طور پر لا اله الا اللہ کا نمونہ اپنے اخلاق اور اعمال میں ظاہر ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لا اله الا الله کے مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی توحید، تحمید، تمجید، تسبیح اور تقدیس کو قائم کیا اور اس کا سے دنیا سے کفر و شرک اور فسق و فجور کی گندگیوں کو دور کیا۔(۴) پس فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ کی آیت اپنی حقیقت کی رو سے انسانی زندگی کے متعلق رہنمائی ہے اور وانحر کا فقرہ حقوق العباد اور شفقت علی خلق اللہ کی مثال اپنے اندر رکھتا ہے اور اسلام کی تعلیم کا جو ماحصل آیت بلی من اسلم وجهه لله وهو محسن میں پیش کیا گیا ہے یعنی یہ کہ مومن انسان خدا تعالیٰ کا کامل مطیع و منقاد اور فرمانبردار ہو اور مخلوق خدا پر بجذ بہ ترحم و شفقت احسان کرنے والا ہو وہ بھی انہی معنوں میں پایا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح لوگوں کے لئے اپنے جذبہ ترحم اور شفقت کا اظہار فرمایا اس کا نمونہ قرآن کریم کے ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے لعلک باخع نفسك الا يكونوا مومنین یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے اس قدر نفس کشی اور جان توڑ تبلیغی مجاہدات عمل میں لاتے ہیں اور مضطرا نہ دعوات کرتے ہیں اور یہ شب و روز کے مجاہدات اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ خالق فطرت خود آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ کیا تو اپنی جان کو اس وجہ سے ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ راہ ہدایت کو اختیار کرنے سے کیوں محروم ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم