حیات قدسی

by Other Authors

Page 534 of 688

حیات قدسی — Page 534

۵۳۴ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِ كُمُ ابَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًاء یعنی اللہ کا ذکر اپنے باپوں کے ذکر کی طرح کرو۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔گویا تمہارے اعمال اور عبادات کا اصل مقصد مَنْ يُشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللہ کے رو سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہونا چاہیئے جیسے بیٹے اپنے باپوں کی خوشنودی کے لئے خدمات بجالاتے ہیں۔اسی طرح عاشقانِ وجہ اللہ کے لئے سب نعمتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضوان اور خوشنودی ہے جس کے سامنے جنت کے نعماء بھی بیچ ہیں۔اس میں کچھ شک نہیں کہ قرآن کریم میں مومنوں کی ایک قسم کا ذکر ہے جس کے متعلق نِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ ع کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں یعنی ایسے مومن اجبر اور مزدوری کے لئے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بجالاتے ہیں اور نعمائے جنت کو بطور جزا اور اجر کے حاصل کرتے ہیں لیکن اعلیٰ اور بلند مقام انہی لوگوں کا ہے جن کے مد نظر صرف خدا تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے اور وہ محض اس کے حصول کے لئے اپنا سب کچھ فدا اور قربان کر دیتے ہیں جب یہ عشاق ذات باری تعالیٰ ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی رضا اور لقاء کو ترجیح دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی ان کو تمام دنیا پر ترجیح دے کر اپنی محبت اور رضا کے لئے چن لیتا ہے چنانچہ انہی معنوں میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا کہ اتَرَكَ اللهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ 14 یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام چیزوں پر اختیار کر لیا۔اللہ تعالیٰ ان عاشقان وجہ اللہ میں آپ کو بھی شریک کرے۔آمین لاہور کی ایک مجلس میں سورۃ کوثر کی تفسیر سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں میں لاہور میں مقیم تھا کہ عید المیلاد کے موقع پر جناب خلیفہ عمادالدین صاحب ( برا در کلاں حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کی صدارت میں ایک جلسے کا انعقاد ہوا۔جس میں جماعت کی طرف سے خاکسار اور کو خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کی تقریر میں رکھی گئیں۔اس جلسہ میں خاکسار نے بعض دوستوں کی خواہش پر سورہ کوثر کی تفسیر بیان کی اس کا خلاصہ ذیل میں احباب کے لئے تحریر کیا جاتا ہے۔(۱) عربی زبان میں کوثر اور کثیر کے الفاظ کثرت کے معنوں میں پائے جاتے ہیں۔لفظ کوثر