حیات قدسی — Page 512
۵۱۲ عیسوی۔بکرمی یا بعض اور طریق کے رائج تھے۔حضرت المصلح الموعود یدہ اللہ تعالیٰ کے اصلاحی کارناموں میں اس کا رنامے کا بھی اضافہ ہوا کہ آپ نے ہجری شمسی سن کا اجرا فرمایا اور اس طرح پہلے رائج شدہ شمسی سسٹم کو بدل دیا۔ممکن ہے اس الہام کا کوئی اور مفہوم بھی ہو لیکن ابھی تک میرے ذہن میں یہی بات آئی ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ملٹری اور سول اسی طرح کا ایک عجیب واقعہ سید نا حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد خلافت میں وقوع میں آیا۔حضور نے خاکسار کو تبلیغی و تربیتی اغراض کے ماتحت سکول سے فارغ کر کے لاہور مقرر فرمایا تھا۔وہاں سے میں بنگال کے علاقہ برہمن بڑیہ وغیرہ تبلیغی وفود میں شامل ہو کر گیا۔اور وہاں پر شدید اعصابی امراض کا شکار ہو گیا۔( اس بیماری کا ذکر پہلی جلدوں میں گذر چکا ہے ) واپسی پر میں اعصابی بیماری میں مبتلا تھا کہ ایک دن میں نے رویا میں دیکھا کہ دو فرشتے میرے سامنے ظاہر ہوئے ہیں۔اور میرے بالکل قریب ہو کر میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آدمی تو ملٹری کا تھا۔لیکن ہم نے بوجہ اس کی علالت کے اسے سول میں لے لیا ہے“ اس وقت تک مجھے سول اور ملٹری کے معنوں کا علم نہ تھا۔دوسرے دن میں نے حضرت میاں چراغ دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ملٹری سے مراد فوجی محکمہ ہے۔اور سول سے مراد محکمہ پولیس اور انتظامیہ ہے۔تب مجھے اپنا وہ کشف یاد آیا کہ جس میں مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج میں بھرتی کیا گیا اور اپنے گاؤں سے صرف مجھے ہی بھرتی میں لیا گیا۔(اس کشف کی تفصیل پہلی جلدوں میں گذر چکی ہے) چنانچہ جب خلافت ثانیہ کا دور سعادت شروع ہوا۔تو سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی دعوات خاصہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا اور جب میں ابھی اپنے سسرال پیر کوٹ میں علیل ہی تھا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد پہنچا کہ جس طرح بھی ہو آپ لاہور پہنچ کر وہاں کی جماعت میں سنبھالیں۔چنانچہ خاکسار لاہور پہنچا اور حضرت خير الرَّاحِمِين و خيرُ المحسنین ہاں میرے بے نظیر اور محسن کو