حیات قدسی — Page 511
۵۱۱ ی ہر غرقہ طوفانِ ضلالیم ما کشتی نوحیم دریں سیل بلا با صحب بنی احمد موعود خدائیم ما حزب خدائیم پیئے شوکت طر بانگِ صفیریم بصد جذب جہانگیر از رہے مرغان حرم را ما کاسر اصنام وصـــــــلـيبيــــــم به حجت ما محبت سیم چو صد نیر بیضا ما قاتل خزر و شرریم بہ ہر سو ما دافع ہر فتنہ و شریم زہر جا طاقت ہر علم و ہدائیم به تقدیس ما قوت تقدیس خدائیم و جلالیم دنیا به ما ہادی و نوریم دریں فتنه صماء مظہر آیات جمالیم ما سر وجود از پئے تکوین خدائیم ما نور شہودیم بهر مشهد اجلے ہر منزل ما منزل صد وادي اليمن ہر ہیکل ما هیکل قدس است چو بطحا اے سالک سرگرم در یں منزلِ آداب هشدار کہ این ره دمِ سیخ است نه صحرا قدسی تو بایں نطق بجو محرم اسرار کائیں حکمت لاہوت ز نا محرمے اتھے سورج کا سسٹم بدل گیا ۱۹۲۷ء کا واقعہ ہے کہ میں لاہور میں احمدیہ مسجد کی چھت پر سویا ہوا تھا۔اور میاں محمد حیات صاحب ( جو نقیب مسجد تھے ) بھی میرے قریب ہی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔رات کو میری زبان پر بار بار یہ الہامی الفاظ جاری رہے کہ ؎ سورج کا سسٹم بدل گیا میں چونکہ انگریزی زبان سے ناواقف ہوں اس لئے سسٹم کا انگریزی لفظ نہ سمجھ سکا۔بعض انگریزی دان احباب سے جب سٹم کے معنے دریافت کئے گئے۔تو معلوم ہوا کہ اس کے معنے دستور ، روش ، نظام یا طرز ، طریق کے ہیں۔ایک عرصہ تک مجھے اس الہام کے مفہوم کے متعلق خلش رہی کہ اس کا کیا مطلب ہے۔بعد میں جب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح المصلح الموعود ایده الله بنصرہ العزیز نے ہجری قمری کے سن کے ساتھ ہجری شمسی کا اجرا فرمایا تو مجھے اس الہام کا ایک یہ مفہوم بھی ذہن میں آیا۔کہ پہلے کسی سنین