حیات قدسی — Page 36
داخل نہیں ہوئے مگر نمازیں عموماً ہمارے ساتھ ہی پڑھا کرتے تھے اور غیر احمدیوں کے اعتراضوں اور مخالفت کے موقع پر بھی وہ ہمیشہ ہماری ہی تائید کیا کرتے تھے۔خدا تعالیٰ ان کی روح پر نظر ترحم فرمائے اور ان کی تائید اور تصدیق کو ان کی مغفرت کا باعث اور جنت الفردوس کا موجب بنا دے۔آمین یا ارحم الراحمین ایسا ہی میری والدہ ماجدہ بھی با وجود اپنی بے حد سادگی کے میرے والد صاحب کی طرح حضرت اقدس کی مصدق تھیں اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور سلسلہ حقہ کے بارہ میں کبھی کوئی استخفاف کا کلمہ ان کی زبان سے نہ نکلا تھا۔بلکہ اس زمانہ میں جب کبھی میں بیمار ہو جا تا تھا تو وہ غائبانہ طور سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا کرتی تھیں۔کہ حضرت مرزا صاحب جی ! ہے بھاگی بھریا میرے پتر لیے دعا کرا یہ چھیتی ول ہو دے۔یعنی مرزا صاحب میرے بیٹے کے لئے دعا فرمائیں کہ خدا تعالیٰ اسے جلدی صحت عطا فرمائے۔مجھے افسوس ہے کہ یہ دونوں شفیق ہستیاں میری غریب الوطنی کے زمانہ میں ہی اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئیں اور میں آخری لمحات میں ان کی کوئی خدمت نہ کر سکا۔میرے والد بزرگوار میرے بچپن کے زمانہ میں مجھے گود میں بٹھا کر اکثر یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ اے میرے مولا کریم میرے اس بچے کو اپنا عشق اور محبت عطا کر اور اسے غوث اور قطب بنا دے میں سمجھتا ہوں کہ میرے احمدی ہونے اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں شامل ہونے میں والد صاحب مرحوم کی یہ دعا ئیں بھی میرے لئے مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو ان دعوات خاصہ کا بہترین اجر عطا فرمائے۔آمین۔پھر با وجود یکہ وہ اپنے بھائیوں میں سب سے مفلس تھے اور آپ کا جدی زمین کی آمد کے علاوہ کوئی اور خاص ذریعہ معاش نہیں تھا۔لیکن ہمیں علم پڑھانے کا انتہائی شوق رکھتے تھے۔اور جب بھی ہم اسکول جانے سے گریز کرتے آپ ہمیں مناسب تلقین فرماتے تھے۔آپ کے اس زمانہ کی حالت کے پیش نظر مجھے آج تک وہ شعر یاد ہیں جو آپ کبھی کبھی پڑھا کرتے تھے اور خدا وند کریم کی عنایات کا شکریہ ادا کیا کرتے تھے۔ایک شعر تو یہ ہے۔میں جیہاں بیکاراں نوں رب روزی دیوچ گھر دے جے ہندا رزق کمائیاں اُتے میں جہئے رُل مردے