حیات قدسی

by Other Authors

Page 37 of 688

حیات قدسی — Page 37

۳۷ یعنی میرے ایسے بیکا رلوگوں کو خدا وند کریم گھر بیٹھے بٹھائے روزی پہنچا رہا ہے۔اگر کمانے پر روزی ہوتی تو میرے جیسے انسان دنیا میں بحالت بیکسی و بے بسی ہی مر جاتے۔اسی طرح ایک شعر یہ ہے جو آپ اکثر اس وقت پڑھا کرتے تھے جبکہ آپ کے ارادتمند آپ کے پاس حاضر ہو کر دعا کی درخواست کیا کرتے تھے۔خلق و سا ہی تیری دستے آسی خبر نہ کا سن فریا دانہاندی ربا دل دی آس پیچا یعنی اے میرے مولا کریم یہ مخلوق تیری ہی تحریک پر یہاں آئی ہے ہمیں تو کوئی خبر نہیں ہے۔اب تو ہی ان کی فریا درسی کر اور ان کی امیدوں کو پورا فرما۔پھر قرآن مجید کے ساتھ تو آپ کو اتنا عشق تھا کہ زمیندارہ کام سے فارغ ہوتے ہی قرآن مجید پڑھنا شروع کر دیتے تھے اور اگر کبھی پڑھتے پڑھتے نیند آجاتی تو قرآن مجید کو اپنے سینہ سے لگا کر لیٹ جاتے تھے۔اپنی زندگی کے آخری رمضان المبارک میں بھی آپ نے سات مرتبہ قرآن مجید کا دور کیا تھا۔خدا تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے۔آمین۔رَبِّ اَرحَمُهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا - آمين کرشمہ قدرت اور غیبی ضیافت برادر عزیز میاں غلام حیدر صاحب رضی اللہ عنہ اور میں ایک دفعہ لا ہور اپنے بعض رشتہ داروں سے ملنے کے لئے گئے۔چند دنوں کے قیام کے بعد جب ہم نے گاؤں آنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے از راہ محبت یہ اصرار کیا کہ آپ ایک مہینہ اور ٹھیریں۔مگر ہم دونو کی طبیعت کچھ ایسی اچاٹ ہوئی ہے کہ ہم نے مزید ٹھیر نا گوارا نہ کیا اور ان سے اپنا سامان اور دی ہوئی نقدی واپس مانگی۔انہوں نے کا اس خیال سے کہ اگر ہم انہیں سامان اور نقدی نہ دیں گے تو شاید یہ گاؤں جانے سے رک جائیں۔ہمارا سامان ہمیں دینے سے انکار کر دیا۔اور نقدی بھی نہ دی۔لیکن ہم نے صبح کا ناشتہ کرتے ہی گاؤں لوٹنے کا ارادہ کر لیا اور لاہور سے پیدل چل پڑے۔نو پیسے ہمارے پاس تھے۔دریائے راوی کے پتین پر آئے تو کشتی میں دو پیسے چراغی کے دے کر دریا کو عبور کیا۔چلتے چلاتے جب موضع کامونکے