حیات قدسی — Page 35
۳۵ اپنی زمین کی بٹائی کے لئے یا تبلیغ کی غرض سے موضع را جیکی بھی تشریف لے جاتے تھے۔اور یہ انہی کا حوصلہ تھا کہ وہ راجیکی ایسی سنگلاخ زمین میں خدائی پیغام سنانے سے کبھی نہ ہچکچاتے تھے۔ایک مرتبہ ہمارے سب سے بڑے چا حافظ برخوردار صاحب کے بڑے بیٹے حافظ غلام حسین صاحب نے انہیں احمدیت کی تبلیغ پر مارا بھی تھا۔مگر آپ نے اس تو ہین کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور جیتے جی احمدیت کی تبلیغ سے نہ رکے۔خدا تعالیٰ ان کی روح پر ازلی و ابدی رحمتیں نازل کرے اور ان کی اولاد کو دینی و دنیاوی نعمتوں اور برکتوں سے نوازے۔آمین البی تصدیق عزیزم میاں غلام علی صاحب رضی اللہ عنہ کے تذکرہ میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب میاں صاحب موصوف بھی احمدی ہو گئے تو ہم دونو نے مل کر متحدہ طور پر تبلیغ شروع کر دی جس کی وجہ سے عام لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے تھے۔چنانچہ ایک روز بعض لوگوں نے ہمارے گاؤں کے ایک با اثر آدمی حاکم الدین ولد منجر کے پاس ہماری برائی کرتے ہوئے کہا کہ ان مرزائیوں نے ہمارے گاؤں کو اور اپنے بزرگوں کو بدنام کر دیا ہے۔اس نے جب ان خرافات کو سنا تو رات خواب میں دیکھا کہ ہمارے گذشتہ بزرگوں میں سے ایک بزرگ اسے ملے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ لوگ انہیں ( احمد یوں ہے کو ) کیوں برا کہتے ہیں دراصل مومن تو یہی ہیں۔اس خواب کے بعد حاکم الدین نے مرنے تک اپنی زبان سے کوئی بُراکلمہ احمدیوں کے متعلق نہ نکالا۔مگر احمدیت سے پھر بھی محروم اور بے نصیب رہا۔اس جگہ یہ بتا دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میرے دادا صاحب مرحوم حضرت میاں پیر بخش صاحب کے پانچ صاحبزادے تھے جن میں سب سے بڑے حافظ برخوردار صاحب اور ان سے چھوٹے میاں علم الدین صاحب اور ان سے چھوٹے میرے والد میاں کرم الدین صاحب اور ان کا سے چھوٹے میاں شمس الدین صاحب اور ان سے چھوٹے حافظ نظام الدین صاحب تھے۔ان میں سے حافظ برخوردار صاحب اور میاں شمس الدین صاحب تو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تبلیغ رسالت پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے اور حضرت میاں علم الدین صاحب اور حضرت حافظ نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہم حضور اقدس پر ایمان لے آئے تھے اور حضور کے صحابہ میں داخل تھے۔ان میں سے میرے والد صاحب مرحوم اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سلسلہ بیعت میں