حیات قدسی

by Other Authors

Page 310 of 688

حیات قدسی — Page 310

۳۱۰ لال شاہ صاحب برق پشاوری بھی شریک وفد ہوئے۔بنگلور میں اس موقع پر مختلف اطراف ہند سے مشہور علماء جمع تھے۔جن میں سید سلیمان صاحب ندوی ، مولانا شوکت علی صاحب برادر مولانا محمد علی صاحب اور بعض عرب علماء بھی تھے۔جلسہ کی ابتدا میں ایک عرب صاحب نے خوش الحانی سے سورہ بقرہ کا آخری رکوع تلاوت کیا۔جب انہوں نے كُلُّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِه و تک پڑھا تو رُسُلِہ کے لفظ پر وقف کیا۔اور پھر لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِنْ رُّسُلِهِ پر وقف کیا۔پنجاب میں عام طور پر بعد کے رُسُلِه پر تو وقف کرتے ہیں۔لیکن پہلے رُسُلہ پر وقف نہیں کیا جاتا۔اور پنجاب کے مطبوعہ قرآن کریم اکثر اسی طرح ہیں۔بنگلور کے سفر سے بہت عرصہ پہلے ایک دن جب میں نے سورہ بقرہ کا آخری رکوع تلاوت کیا تو مجھے خدا تعالیٰ نے الہام فرمایا کہ كُلٌّ آمَنَ بِاللهِ وَ مَلَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ کے فقره میں رُسُلِہ کے لفظ پر وقف کرنا چاہیئے۔کیونکہ یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اور مومنوں کے متعلق بطور حکایت ذکر کیا گیا ہے۔اور بعد کا فقرہ یعنی لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ خود مومنوں کی طرف سے ہے۔اور یہ دونوں فقرے ایک دوسرے سے جدا ہیں۔میں نے جب ان عرب صاحب کو اس طرح تلاوت کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے پہلے رُسُلہ پر وقف کیا تو مجھے بہت ہی خوشی ہوئی کہ مجھے جس امر کی اطلاع الہا ما دی گئی تھی اس کی تصدیق ایک اہلِ زبان سے ہوگئی۔اس کے بعد میں نے مختلف مقامات کے مطبوعہ قرآن بغور دیکھے تو ان میں بھی الہامی اطلاع کی تصدیق پائی۔جلسہ بنگلور میں میری تقریر جب پروگرام کے مطابق صدر صاحب نے میرا نام تقریر کے لئے پکارا تو خواجہ کمال الدین صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ اس وقت سورۃ کوثر کی وہ تفسیر بیان کریں جو فلاں موقع پر آپ نے لا ہور میں بیان کی تھی۔چنانچہ میں نے ان کے کہنے پر وہی تفسیر اپنی تقریر میں پیش کر دی۔تقریر سے فراغت کے بعد جب میں واپس اپنی جگہ پر آیا تو سیدم سلیمان ندوی صاحب نے جو خواجہ صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔میری طرف اشارہ کر کے ان کو کہا کہ یہ صاحب جنہوں نے