حیات قدسی — Page 309
۳۰۹ اس کے جواب میں لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمْتِ رَبِّي 20 دے اور آیت إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ 21 کی تشریح کرتے ہوئے بتایا۔کہ اگر مسیح کو کلمۃ اللہ ہونے کی وجہ سے کوئی خصوصیت حاصل ہے تو اس خصوصیت میں کائنات کا ذرہ ذرہ شریک ہے۔اور اس اشتراک کی وجہ سے مسیح کی کوئی خصوصیت اور فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔میرے جوابات کا اثر یہ جوابات جن کا خلاصہ اوپر بیان کیا گیا ہے میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختصر وقت میں بیان کر دئیے۔ان جوابات کا ایسا اثر ہوا کہ جونہی میں ایک بات کا جواب ختم کرتا۔ہال خوشی کے نعروں سے گونج اٹھتا تھا۔مجھ سے پہلے علماء کے جوابات سے جو مایوسی پیدا ہو چکی تھی۔میرے جوابات سے جو پادری صاحب کے مطالبہ کے عین مطابق تھے خدا کے فضل سے دور ہوگئی۔جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ میں احمدی ہوں تو وہ لوگ جو احمدیوں کو برا سمجھتے تھے کہنے لگے کہ آخر احمدی بھی تو ہمارے بھائی ہیں۔ان کے جوابات سے اسلام کی خوب نصرت ہوئی ہے۔پادری غلام مسیح تر دیدا تو کچھ نہ کہہ سکے۔صرف اتنا کہا کہ اس مجیب نے اور رنگ میں جوابات دیئے ہیں۔جب میں ہال سے باہر نکلا تو پچاس ساٹھ جو شیلے مسلمانوں نے مجھے حلقہ میں لے لیا۔اور بعض نے جوش مسرت سے اوپر اٹھا لیا۔اور بار بار جزاک اللہ کہا۔مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب جو ان دنوں ایف۔اے کلاس میں پڑھتے تھے۔بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر آج 1 آپ جواب نہ دیتے تو مسلمانوں کو بہت مایوسی ہوتی۔فالحمد للہ علی ذالک جنوبی ہند کے تبلیغی سفر کے بعض واقعات حضرت خلیفة المسيح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں ۱۹۱۱ء میں حضور کو بنگلور شہر سے جو ریاست میسور میں ہے ایک درخواست پہنچی کہ وہاں پر جماعت اسلامیہ کی طرف سے ایک جلسہ کا انتظام کیا گیا ہے اور بلاد ہند کے مختلف علاقوں سے علماء کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔آپ بھی مرکز سے علماء کو بھجوائیں۔خاکساران دنوں لاہور میں مقیم تھا حضرت کا ارشاد خواجہ کمال الدین صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور خاکسار کے نام پہنچا کہ ہم بنگلور کے لئے روانہ ہوں۔ہمارے ساتھ