حیات قدسی — Page 311
ابھی تقریر کی ہے کون ہیں۔ان کی بیان کردہ تفسیر نے مجھے حیرت میں ڈال دیا ہے۔میں نے آج تک سو کے قریب تفاسیر سورہ کوثر کی پڑھی ہیں اور مفسرین نے جو عجیب و غریب حقایق و معارف اس سورہ شریف کے بیان کئے ہیں۔ان پر آگاہی حاصل کی ہے۔مگر جو کچھ انہوں نے آج بیان کی ہے یہ بالکل نیا اور اچھوتا ہے اور ان کی تقریر سے مجھے جدید معلومات کا ذخیرہ ملا ہے۔خواجہ صاحب نے ان کو بتایا کہ یہ میرے استاد ہیں اور انہوں نے اس وقت اختصار کے ساتھ تفسیر بیان کی ہے۔ورنہ اس کے متعلق وہ لاہور میں بہت زیادہ تفصیل سے روشنی ڈال چکے ہیں۔یہ تفسیر انشاء اللہ کسی اور جگہ تحریر کی جائے گی۔مرتب ) سونے کا پہاڑ جب ہم بنگلور کے جلسہ سے فارغ ہوئے تو نواب غلام احمد صاحب نے جو اس کانفرنس کے صدر تھے ، فرمایا کہ میں آجکل میسور سٹیٹ کے اس محکمہ میں جو پہاڑ سے سونا نکالنے سے متعلق ہے مینجر ہوں۔اگر آپ کا وفد اس کا رخانہ کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو۔جو عجائب روزگار میں سے ہے تو میں بآسانی اس کا انتظام کر سکتا ہوں۔یہ کارخانہ بنگلور سے تقریباً چالیس میل کے فاصلہ پر ہے۔چنانچہ نواب صاحب موصوف کی معیت میں ہم ان کی قیام گاہ پر پہنچے۔اور وہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد کارخانہ دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔وہاں پر انگریزوں کی طرف سے بہت سخت پہرہ کا انتظام تھا۔اس جگہ پر ایک وسیع سلسلہ مشینوں کا نظر آیا۔جو سونے سے مخلوط پتھروں کو کوٹنے اور دھاتوں کو الگ الگ کر کے ان میں سے سونے کو علیحدہ کرنے کے لئے لگی ہوئی تھیں۔سونے کی دھات الگ کر کے ایک بہت بڑے صندوق میں ڈالی جاتی تھی۔اس پہاڑ کے اندر لمبی لمبی زمین دوز سٹر کیں تھیں۔او پر آنے کے لئے لفٹ لگے ہوئے تھے۔اندر روشنی اور ہر قسم کا ضروری انتظام تھا۔اور پہاڑ کی کھدائی کا کام جاری تھا۔اس کان میں جو کاریگر اور مزدور کام کرتے تھے ان کے باہر نکلنے کے وقت بڑی احتیاط سے تلاشی لی جاتی تھی۔عورتوں کی تلاشی لینے کے لئے انگریز عورت مقرر تھی اور مردوں کے لئے انگریز مرد۔رو د ونتی بوٹی اس سونے کے پہاڑ پر میں نے رودونتی بوٹی کثرت سے اُگی ہوئی دیکھی یہ بُوٹی جیسا کہ مخزن الادویہ