حیات قدسی — Page 175
۱۷۵ گا۔ان کی غرض اپنی تقریر کو موخر کرنے سے یہ تھی کہ وہ بعد میں اپنا تازہ اثر قائم رکھ سکیں۔اور میری تقریر کے اثر کو زائل کر سکیں۔میں ان کی اس چال کو سمجھ گیا لیکن مجبوراً ان کی یہ شرط قبول کرنی پڑی۔میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور خاص طور پر نصرت الہی کے حصول کے لئے دعا کی۔جس کے بعد مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینت اور اطمینان حاصل ہو گیا اور مجھے دعا کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات خاص طور پر دل میں ڈالی گئی کہ پر چہ پڑھنے سے پہلے خدا تعالیٰ کے حضور ان پرچہ الفاظ میں دعا کر لی جائے کہ اے ہمارے علیم و حکیم اور قادر و متصرف خدا! اگر تیرے نزدیک میرا یہ پر چہ اور اس کا مضمون تیری رضا کے مطابق ہے تو مجھے اس کو سنانے اور سمجھانے کی توفیق عطا فرما اور حاضرین اور سامعین کو سنے سمجھنے اور حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما اور اگر یہ پرچہ تیری رضا کے خلاف ہے تو نہ ہی مجھے اس پر چہ کے سنانے اور سمجھانے کی توفیق ملے اور نہ حاضرین کو سننے کی توفیق ملے“۔نصرت الہی کا کرشمہ چنانچہ میں نے اس بات کا اعلان کیا کہ چوں کہ اس بحث کا تعلق دین اور ایمان سے ہے اور یہ بہت نازک معاملہ ہے اس لئے ہم دونوں مناظروں کی طرف سے مندرجہ بالا الفاظ میں دعا کی جائے اور حاضرین اس پر آمین کہیں۔چنانچہ میں نے انہی الفاظ میں دعا کر کے (جس پر سب حاضرین نے آمین کہا ) اپنا پر چہ مع تشریح کے پڑھنا شروع کیا۔۔خدا تعالیٰ نے اس ناچیز اور حقیر کی روح القدس سے تائید فرمائی اور میرے قلب میں انشراح اور زبان میں خاص فصاحت و بلاغت بخشی اور میں نے صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل کے ساتھ وفات مسیح کے دلائل بھی کھول کر بیان کر دئیے۔میں ނ نے 9 بجے صبح شروع کر کے ایک بجے اپنی تقریر ختم کی۔سب حاضرین نے پوری توجہ اور دلچسپی سے میری تقریر کو سنا۔اس کے بعد میں نے اپنی تقریر کے ختم ہونے کا اعلان کیا اور مولوی شیر عالم صاحب کو اپنا پر چہ شروع کرنے کے لئے کہا۔جب مولوی صاحب اٹھ کر پر چہ سنانے لگے تو میں نے کہا کہ میرے پر چہ سنانے سے پہلے جس طرح دعا کر لی گئی تھی۔انہی الفاظ میں آپ بھی حاضرین سمیت دعا کریں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے کہ جب مولوی صاحب نے مذکورہ بالا الفاظ میں دعا کے