حیات قدسی

by Other Authors

Page 176 of 688

حیات قدسی — Page 176

بعد پر چہ سنانا شروع کیا تو ابھی دو چار منٹ ہی ہوئے تھے کہ حاضرین کی ایک بڑی تعداد یہ کہہ کر اٹھ کر چلی گئی کہ مولوی شیر عالم صاحب جو باتیں بیان کر رہے ہیں یہ تو ہم نے پہلے بھی ان کے منہ سے کئی دفعہ سنی ہیں۔کوئی نئی اور دلچسپ بات وہ پیش نہیں کر رہے۔اس کے دو تین منٹ بعد لوگوں کی ایک اور بڑی تعداد اسی طرح اظہار نفرت کرتی ہوئی اٹھ کر چلی گئی۔یہاں تک کہ ابھی گیارہ منٹ ہی گزرے تھے کہ سوائے میرے اور دو اور آدمیوں کے سب سامعین مسجد سے چلے گئے اور پولیس بھی چلی گئی۔جناب مولوی شیر عالم صاحب یہ منظر دیکھ کر حسرت بھری آواز سے کہنے لگے کہ اب تو سب جا چکے ہیں پر چہ کس کو سناؤں۔میں نے کہا میں تو حسب وعدہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ آپ کا پورا پر چہ سننے کے لئے تیار ہوں لیکن وہ بقیہ پر چہ سنانے کے لئے تیار نہ ہوئے۔میں نے ان کو کہا کہ کیا آپ نے حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی صداقت کا تازہ نشان نہیں دیکھا کہ جب دونوں پر چوں کے سنانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی گئی تو میرا پر چہ اور تقریر جو اس کی رضا اور خوشنودی کا باعث تھی۔اس کو سنانے اور سننے کی اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر توفیق بخشی لیکن آپ کو اپنی تقریر نہ سنانے کا موقع ملا اور نہ اس کو کوئی سننے کے لئے تیار ہوا۔کیا یہ خدا تعالیٰ کے پاک مسیح موعود کی سچائی کا تازہ نشان اور نصرت الہی کا زندہ ثبوت نہیں۔سامعین اور حاضرین سب کے سب آپ کے ہم وطن اور دوست و احباء تھے۔اور میں ایک غریب الدیار اور اجنبی تھا لیکن خدا تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو میری طرف اور میری تقریر کی طرف خاص طور پر پھیر دیا۔اور آپ سے اور آپ کی تقریر سے با وجود دیرینہ تعلقات وقرابت کے نفرت پیدا کر دی۔میری ان باتوں کو سن کر مولوی شیر عالم صاحب بڑ بڑاتے ہوئے وہاں سے چلے گئے لیکن قصبہ کے اندر ندامت اور شرم کی وجہ سے نہ گئے بلکہ مسجد کے جنوب کی طرف باجرہ کے کھیت میں روپوش ہوتے ہوئے گاؤں سے چلے گئے۔وہ دن خدا تعالیٰ کی نصرت کا عجیب دن تھا جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ، شوکت اور عظمت کا سکہ مڈھ رانجھا کے گھر گھر کے اندر بیٹھ گیا اور مولوی شیر عالم صاحب جو اپنے علم وفضل کے زعم میں احمدیوں کو للکارتے پھرتے تھے لومڑی کی طرح میدان سے بھاگ کر چھپ گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔