حیات قدسی

by Other Authors

Page 174 of 688

حیات قدسی — Page 174

۱۷۴ مڈھ رانجھا ضلع شاہ پور میں مباحثہ کے لئے پہنچ جائیں۔اور راستہ میں دعا اور استغفار پر خاص طور پر زور دیں۔چنانچہ میں لاہور سے شام کو سانگلہ ہل پہنچا۔وہاں پر حضرت حکیم محمد صالح صاحب سیال جو نہایت ہی مخلص احمدی تھے اور اس وقت سانگلہ میں اکیلے احمدی تھے کے ہاں قیام کیا۔وہاں رات کو مجھے ایک نسخہ خواب میں بتایا گیا کہ ارزیز کا بھنگ میں کشتہ دافع جریان اور سرعت اور مقوی اور مہی ہے ( یہ نسخہ میں نے بار ہا تجربہ کیا ہے اور مفید پایا ہے ) مجھے اس وقت اس کی یہ تعبیر معلوم ہوئی کہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح نے مجھے جو استغفار اور دعا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے اور جس کی تعمیل میں اور ارشادفرمایا راستہ میں متعدد بار کرتا آیا ہوں اس کا روحانی فائدہ اور برکت مجھے حاصل ہوگی اور میں بفضلہ تعالیٰ اپنے حریف پر مباحثہ میں غالب آؤں گا۔چنانچہ جب میں سانگلہ سے روانہ ہو کر دریائے چناب کو بذریعہ کشتی عبور کر کے دوسری طرف پہنچا تو شیخ مولا بخش صاحب احمدی مع چند ا حباب کے میرے انتظار میں تھے۔وہ میری آمد سے بہت خوش ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ ان کے علاقہ میں مولوی شیر عالم صاحب مشہور عالم ہیں جو خاندان کو مخدوماں میں سے ہیں وہ بار بار احمد یوں کو مباحثہ کے لئے چیلنج دے چکے ہیں لیکن چونکہ اس علاقہ میں کوئی بڑا احمدی عالم نہیں اس لئے مرکز سے آپ کو بلوایا گیا ہے مناظرہ کا مقام موضع مذکور کی ایک مسجد قرار پایا جہاں پر گر دو پیش کے دیہات سے کثرت کے ساتھ لوگ جمع ہو گئے۔شرائط مناظرہ مباحثہ کی شرائط یہ قرار پائیں کہ میری طرف سے صداقت دعوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلائل از روئے قرآن شریف پیش کئے جاویں اور مولوی شیر عالم صاحب ان کی تغلیظ از روئے قرآن شریف بیان کریں۔طریق یہ مقرر کیا گیا کہ دونوں مناظر پہلے اپنے اپنے موضوع بحث کو اردو میں قلمبند کر لیں اور پھر حاضرین کو اردو یا پنجابی میں مناسب تشریح کے ساتھ سنا دیں۔چنانچہ ہم دونوں کی طرف سے پرچے لکھے گئے اور پولیس کی نگرانی اور انتظام کے ماتحت 9 بجے صبح کا رروائی شروع ہوئی۔لوگ ہزار ہا کی تعداد میں مسجد اور اس کے ارد گرد جمع تھے۔مولوی شیر عالم صاحب نے فرمایا کہ پہلے مولوی غلام رسول اپنا پر چہ سنائیں گے اور ان کے بعد میں اپنا پر چہ سناؤں