حیات قدسی

by Other Authors

Page 79 of 688

حیات قدسی — Page 79

فیض روحانی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ مبارک میں ایک دفعہ میں اپنے گاؤں کی مسجد میں رمضان شریف کا سارا مہینہ اعتکاف بیٹھا اور ایک عربی قصیدہ لکھا جس کے تین سو ساٹھ اشعار تھے۔اس اعتکاف میں خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ فضل فرمایا کہ جب میری آنکھ لگتی تو حضورا قدس کی زیارت ہو جاتی اور بسا اوقات حضور اقدس علیہ السلام کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھانے کی سعادت بھی نصیب ہوتی۔اسی دوران میں میں نے خواب میں یہ بھی دیکھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے گاؤں میں تشریف لائے ہیں اور ایک مجمع میں جلوہ افروز ہیں۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ حضور اقدس کو کوئی قصیدہ سنایا جائے۔پھر میں نے سوچا کہ اس وقت کونسا قصیدہ سنایا جائے تو اسی وقت آسمان سے یہ گونجتی ہوئی آواز آئی کہ وہ قصیدہ سنایا جائے جس کا مطلع یہ ہے قلبى يُرُوم بجيشـــــــه مستــــر شـــــد اَنْ اَحْمدَ الله الـحـمـيــد الــمــرشــد چنانچہ میں نے اسی وقت رؤیا میں یہ قصیدہ حضور انور علیہ السلام کی خدمت میں سنایا اور یہی وہ قصیدہ تھا جو میں نے اعتکاف میں لکھا تھا۔اس کے دوا شعار یہ بھی ہیں ؎ وهو الذى فى ذاتـــــــه وصـــفـــــاتـــــه فرد وليـــــــــس كـــمـثــلــــــه شـــــی بــــدا يُعبِي القَلوبَ كَمَالُ حُسُنَ بَيانه سُبْحَانَ مَنْ أوحـــــى وَانطَقَ احــمــدا اور اللہ ہی وہ ہستی ہے جو اپنی ذات اور صفات میں لگا نہ ہے اور اس جیسی کوئی چیز منصہ شہود پر نہیں آئی۔اس کے حسن بیان کا کمال دل کو موہ لیتا ہے وہی پاک ذات ہے جس نے حضرت احمد علیہ السلام کی طرف وحی کی اور ہمکلامی کا شرف بخشا۔اس کے بعد جب میں قادیان گیا تو اس زمانہ میں حضور اقدس علیہ السلام باغ میں قیام فرما تھے۔چنانچہ میں نے ایک روز تقریباً صبح کے نو دس بجے یہ قصیدہ حضور کی بارگاہِ عالی میں پڑھ کر سنایا