حیات قدسی — Page 78
اعمال اور حضور عالی کے تصور کو ترک کر دیا اور اس خط کی برکت سے میرے قومی وحواس اور دل و دماغ پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کا وہ نقش بیٹھا کہ اب میں جس حال میں بھی ہوں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں رہتا۔اور حضور اقدس کے اس ارشاد سے کہ تصور مخلوق سے بجز شرک اور کوئی نتیجہ نہیں، میرے دل میں حضور اقدس علیہ السلام کی عظمت اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔میرے پڑھنے کے بعد یہ خط مجھ سے مولوی امام الدین صاحب نے لیا تھا اور پھر انہی کے پاس رہا۔غالبا اس خط کے مضمون کا ذکر مولوی صاحب کے لڑکے قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل نے بھی اپنے کسی مضمون میں کیا تھا۔یابد وح دوزخی ہے ہمارے خاندان کے اکثر بزرگ چونکہ پشتہا پشت سے مرجع خاص و عام بنے ہوئے تھے اور لوگ دور دور سے آکر ان سے دعا ئیں اور تعویذات کرایا کرتے تھے۔اس لئے میں نے بھی بچپن ہی و سے تعویذات لکھنے شروع کر دیئے تھے۔ان تعویذات میں سے کئی ایسے تعویذات بھی تھے۔جن میں بحق یا بدوح کا اسم لکھا جاتا تھا۔احمدی ہونے کے بعد ایک مرتبہ اس اسم کے متعلق گفتگو ہوئی کہ آیا یہ اسماء الہی سے ہے یا نہیں۔اور پھر میں نے اس کا تعویذ بھی لکھ کر کسی کو دیا تو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مجھے خواب میں ملے اور فرمایا: "یا بد وح دوزخی ہے۔جس کا مطلب میری سمجھ میں یہ آیا کہ یہ بدعت ہے۔اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے كل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار و یا بدوح بھی دوزخی ہے۔چنانچہ اس خواب کے بعد میں نے یہ اسم لکھنا بالکل چھوڑ دیا۔سانیوں سے بچنے کا علاج ایک دفعہ میں قادیان مقدس ہی میں تھا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ اقدس میں افریقہ کے ایک احمدی دوست کا خط موصول ہوا جس میں انہوں نے حضور اقدس کی خدمت عالیہ میں لکھا تھا کہ حضور اس علاقہ میں سانپ بہت زیادہ ہیں کیا کیا جائے۔حضور اقدس علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آخری تین قل پڑھ کر رات کے وقت جسم پر پھونک لئے جائیں۔