حیات قدسی

by Other Authors

Page 80 of 688

حیات قدسی — Page 80

۸۰ جسے سن کر حضور نے فرمایا یہ قصیدہ کوئی دوسو شعر کا ہوگا“۔میں نے عرض کیا حضور تین سو ساٹھ اشعار کا ہے۔اس وقت اس مجلس میں حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول اور مولانا عبدالکریم صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ایک تقریب پر جب میں نے یہ واقعہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدس کو یہ قصیدہ بہت پسند آیا ہو گا جس کی وجہ سے آپ نے تین سو ساٹھ اشعار کو دوسو کے قریب خیال فرمایا۔علاوہ ازیں میں نے ایک تائیہ قصیدہ جس کے تقریباً ایک سو تینتیس اشعار تھے وہ بھی مسجد مبارک میں حضور کی بارگاہ نبوت میں سنایا جس کے ایک شعر کو حضور اقدس نے بہت ہی پسند فرمایا اور دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی وہ شعر یہ تھا ے أتُؤتِدُونَ بِحُمُقِكُمْ دَجَّالَكُمُ بِحَيَاتِ عِيسى سيد الاموات - افسوس ہے کہ یہ ہر دو قصائد اور حضرت اقدس علیہ السلام کے تبرکات میں سے ایک ریشمی رومال اور جائے نماز اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے مُوئے مبارک ایک دفعہ لاہور میں مجھ سے مولوی محمد کنجی صاحب مالا باری نے بڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے لے لئے۔مولوی محمد کنجی صاحب جن کے اخلاص کی اس وقت یہ حالت تھی کہ وہ مجھ سے ان تبرکات اور قصائد کو حاصل کرنے کے لئے زار وقطار روتے تھے اور حضرت مسیح موعود کا واسطہ دیتے تھے۔بعد میں مرتد ہو گئے اور یہ سب قیمتی متاع ضائع ہو گئی۔ایک مرتبہ میں نے ان تبرکات کی واپسی کی کوشش بھی کی مگر وہ بے سود ثابت ہوئی۔مواہب الرحمن ایک دفعہ خاکسار نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالیہ میں جبکہ حضور اقدس علیہ السلام شام کی نماز کے بعد مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے ایک بائیہ قصیدہ سنایا جس کے چندا شعار مندرجہ ذیل ہیں۔حـامـدالـلـ ــد ذى العـ خلق اول السـ