حیات قدسی — Page 514
۵۱۴ سیدی حضرت میاں بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی نے مکان کے باہر کھڑے ہوئے اس عاجز کو بھی خاص طور پر مدعو کر کے حضرت المصلح الموعو د ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد سے دعا میں شامل فرمایا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَىٰ ذَالِكَ عزیز اقبال احمد صاحب کے متعلق ایک واقعہ جب میرالڑ کا عزیز اقبال احمد لائل پور کے زراعتی کالج میں تعلیم پاتا تھا۔تو ایک دفعہ تعطیلات کے بعد وہ ایک صد میں روپے کی رقم تعلیمی اخراجات کے لئے گھر سے لے کر کالج ہوٹل پہنچا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک نوجوان لڑکا جو اس سے تعارف رکھتا ہے ملاقات کے لئے کمرہ میں آیا۔عزیز اقبال احمد صاحب اکرام صیف کے خیال سے اس کے لئے سوڈا وغیرہ لینے کے لئے دکان پر گیا۔جب واپس کمرہ میں آیا تو نو جوان وہاں سے غائب تھا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ سرگودھا روا نہ ہو چکا ہے۔اس کے بعد جب عزیز موصوف نے اپنے کوٹ کی جیب جس میں ایک سو بیس روپے کی رقم تھی دیکھی تو اس میں رقم موجود نہ تھی۔یہ دیکھ کر اس کو بہت دکھ ہوا کہ فیس، کتابوں اور ہوسٹل وغیرہ کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔میں ان دنوں ضلع جھنگ کے تبلیغی دورہ پر تھا۔عزیز اقبال احمد نے رقم کے گم ہونے کی ساری کیفیت اور اخراجات کے متعلق اپنی پریشانی کا ذکر بذریعہ خط لکھا۔میں نے اس کو جوابا تسلی دی۔اور لکھا کہ ایسے حادثات انسان کی زندگی میں ہو جاتے ہیں۔اس حادثہ سے کم از کم آپ کو آئندہ محتاط رہنے کا سبق حاصل ہو گیا ہے۔اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جلد تلافي مافات کی کوئی صورت پیدا کردے۔اس کے بعد میں نے عزیز کی پریشانی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ ہاں اپنے خیر الراحمین اور خير المحسنين اللہ کے حضور عرض کیا۔ابھی چند روز ہی گذرے تھے اور میں دورہ پر ہی تھا کہ کسی دوست نے از راہ محبت و احسان اڑھائی صد روپیہ مجھے ارسال کر دیا۔جس میں سے میں نے ایک صد بیس روپیہ عزیز موصوف کو بھیج دیا اور گم شدہ رقم کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی نصرت و تائید اس طرح ظہور میں آئی کہ وہ نوجوان جو عزیز اقبال احمد کی رقم چرا کر بھاگ گیا تھا۔جب وہ سرگودھا پہنچا تو وہاں بھی اپنی عادت بد کی وجہ سے چوری کا ارتکاب کیا۔جس پر اس کے خلاف پولیس