حیات قدسی — Page 493
۴۹۳ اور شمع خلافت حقہ احمدیہ کے اردگرد پروانوں کی طرح قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین کامیابی کے گر سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ بعد نماز عصر قرآن کریم کا درس فرما رہے تھے۔آپ نے سورۃ بقرہ کے پہلے رکوع کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن کریم سب کا سب ہی اپنے اندر فیوض وانوار کے خزانے رکھتا ہے۔اور اس کے عجائبات کی کوئی حد نہیں لیکن افسوس ہے کہ مسلمان اپنی ناداری اور بے کسی کا ازالہ ادھر اُدھر سے تلاش کرتے پھرتے ہیں۔اور قرآن کریم کے بیان فرمودہ اصولوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔سورہ بقرہ کے پہلے رکوع میں کامیابی اور فلاح حاصل کرنے کے لئے تین امور پیش کئے گئے ہیں۔اس میں متقیوں کے لئے مُفْلِحُونَ یعنی " کامیابی حاصل کرنے والے لوگ“ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔اور متقیوں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔اوّل يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی جب وہ کسی کام کو شروع کرتے ہیں تو اس کے انجام کے متعلق تذ تذب اور شک میں نہیں ہوتے بلکہ یہ یقین رکھتے ہیں اور اس پر بصیرت سے قائم ہوتے ہیں کہ انجام کا روہ کامیاب و بامراد ہو جائیں گے۔دوسری صفت يُقِيمُونَ الصَّلوةَ ہے۔یعنی وہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے صرف اپنی کوشش اور جد و جہد پر انحصار نہیں کرتے۔بلکہ قادر مطلق اور مسبب الاسباب خدا کے آستانہ الوہیت پر جھکتے ہیں۔اور مقصد برآری کے لئے اس کی تائید و نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں۔اور وہ رحیم و کریم خدا جس نے اپنی شان امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ 16 کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔یعنی خدا تعالیٰ ہی وہ قدوس و رحیم ہستی ہے کہ جب کوئی مصیبت زدہ اور مضطر انسان اپنی تکلیف کا اظہار اس کے سامنے کرتا ہے تو وہ اس کی التجا کو سنتا اور جواب دیتا ہے۔اور اس کی تکلیف اور مشکل کو دور کر کے اس کو کامیابی کے دروازہ کی طرف لے آتا ہے۔ایسے متقیوں کو ضرور کامیابی عطا فرماتا ہے۔تیسری صفت کامیاب ہونے والے متقیوں کی وَمِمَّا رَزَقْنهُمْ يُنْفِقُونَ بیان فرمائی گئی ہے۔یعنی جو کچھ مال و دولت وغیرہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اس میں سے خدا تعالیٰ کے لئے خرچ کرے۔خصوصاً غرباء اور محتاجوں کو صدقات اور خیرات کے طور پر حسب توفیق کچھ دے اگر مشکلات انسان کے بعض گنا ہوں کی