حیات قدسی — Page 494
۴۹۴ وجہ سے آتی ہیں۔تو حسب ارشاد إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ ( صدقات اللہ تعالیٰ کے غضب کی آگ کو بجھا دیتے ہیں ) انسان جب اللہ تعالیٰ کی مخلوق پر رحم کرے گا تو اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہے۔وہ بھی اس پر رجوع بر حمت کر کے اس کے گناہوں کو معاف کر دے گا۔اس کی مصیبت اور دکھ دور ہو جائیں گے۔اور وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جائے گا۔اس سورہ شریفہ میں اور بھی بہت سے گر کامیابی کے فرمائے گئے ہیں۔جن کی تشریح حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے۔میں نے ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کے لڑکے کی بیماری کے وقت انہیں تین باتوں کو مد نظر رکھا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔اس لئے اس جگہ انہی کا ذکر کر دیا ہے۔کامیابی حاصل کرنے کے ان اصولوں پر عمل کر کے میں نے بار ہا فائدہ اٹھایا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت سے مشکلات سے نجات دی ہے۔اور مقاصد کے حصول میں کامیابی بخشی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔بیعت حضرت اقدس علیہ السلام جب میں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو اس سے پہلے میری حالت بہت مجو بانہ تھی اور میں علم کی کمی اور نفس امارہ کی تاریکیوں میں سرگرداں تھا۔اور تاریک تصورات اور پر ظلمت تخیلات کے دائرہ کے اندر میرے احساسات کی رو چلتی تھی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے بیعت لیتے وقت مجھے کلمہ شہادت پڑھایا۔اور پھر تین دفعہ - اَسْتَغْفِرُ اللهَ رَبِّي مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاتُوبُ إِلَيْهِ كا تکرار فرمایا۔اس کے بعد دعا رَبِّ إِنِّي ظَلَمُتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِى فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اور اس کا ترجمہ دو دفعہ پڑھوایا۔ترجمہ حضور اقدس نے ان الفاظ میں فرمایا :۔”اے میرے رب میں نے اپنی جان پر ظلم کیا۔اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔پس میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی گناہ بخشنے والا نہیں، بیعت کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بالعموم ان الفاظ میں بیعت کنندگان کے لئے دعا فرماتے:۔اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَثَبِّتْهُمُ عَلَى الْإِيمَانِ