حیات قدسی

by Other Authors

Page 492 of 688

حیات قدسی — Page 492

۴۹۲ دے کر بلایا۔اور اس کی جھولی میں ایک روپیہ ڈالتے ہوئے اسے صدقہ کو قبول کرنے اور مریض کے لئے جن کے واسطے صدقہ دیا تھا دعا کرنے کے لئے درخواست کی۔اس کے بعد میں خود امریض کے کمرہ میں واپس آکر نماز و دعا میں مشغول ہو گیا۔اور سورہ فاتحہ کے لفظ لفظ کو خدا تعالیٰ کی خاص توفیق سے حصولِ شفا کے لئے رقت اور تضرع سے پڑھا۔اس وقت میری آنکھیں اشکبار اور دل رفت اور جوش سے بھرا ہوا تھا۔اور ساتھ ہی مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی شان کریمانہ کا ضرور جلوہ دکھائے گا۔پہلی رکعت میں میں نے سورہ یسین پڑھی۔اور رکوع وسجود میں بھی دعا کرتا رہا۔جب میں ابھی سجدہ میں ہی تھا کہ بشیر حسین چار پائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا۔اور کہنے لگا کہ میرے شاہ جی کہاں ہیں۔میری اماں کہاں ہے۔میں نے اس کی آواز سے سمجھ لیا کہ دعا کا تیر نشانہ پر لگ چکا ہے۔اور بقیہ نماز اختصار سے پڑھ کر سلام پھیرا۔میں نے بشیر حسین سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔اس نے کہا کہ میں نے پانی پینا ہے۔اتنے میں بشیر کی والدہ آئیں۔اور کمرے سے باہر سے ہی کہنے لگیں کہ مولوی صاحب ! آپ کس سے باتیں کر رہے ہیں۔میں نے کہا اندر آ کر دیکھو۔جب وہ پردہ کر کے کمرہ میں آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ عزیز بشیر چار پائی پر بیٹھا ہے۔اور پانی مانگ رہا ہے۔تب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور بچے کو پانی پلایا۔ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب بھی آگئے اور یہ نظارہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔جب گھر والوں نے پوچھا کہ کہاں گئے تھے تو قبر کا انتظام کا راز تو دل میں رکھا اور خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا۔والدہ صاحبہ بشیر حسین نے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ آپ کی ڈاکٹری کا امتحان کر لیا ہے جو کچھ اہل اللہ کی دعائیں کر سکتی ہیں وہ ماہر فن ڈاکٹروں اور طبیبوں سے نہیں ہوسکتا۔افسوس ہے کہ خلافت ثانیہ کے عہد سعادت میں ڈاکٹر صاحب اور ان کے دوسرے ساتھی عداوت سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ کے باعث خلافت کے ساتھ وابستگی سے محروم ہو گئے۔ان واقعات کا تفصیلی ذکر میں دوسرے مقام پر تحریر کر چکا ہوں۔خلافت جماعت کے لئے ایک نعمت عظمی ہے۔اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی خاص برکتیں اور انعامات وابستہ ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کا مورد بنائے۔