حیات قدسی

by Other Authors

Page 421 of 688

حیات قدسی — Page 421

۴۲۱ اس کی محبت کے خمار سے مخمور اور مست ہو کر وہاں اس محل کے نیچے ہی ڈیرہ لگا لیا۔چند روز تو میری حالت عشق سے بوجہ عدم واقفیت لوگوں کو کچھ توجہ نہ ہو سکی۔لیکن آخر شدہ شدہ میرے وہاں قیام رکھنے اور ڈیرہ جمانے سے میرے متعلق چر چا شروع ہو گیا۔کوئی میری نسبت یہ کہتا کہ یہ مسافر ہے۔بوجہ بے وطنی کے بیچارہ یہاں ہی بیٹھ گیا ہے۔کوئی کہتا مست معلوم ہوتا ہے۔چرسی اور بھنگی اور شرابی ہو گا۔تبھی اس طرح مدہوش پڑا رہتا ہے۔کوئی کہتا کہ فقیر سائیں ہے۔خدا کے ذکر میں عشق الہی کی مستی میں مخمور رہتا ہے۔اور اسی میں مست و مجذوب ہو چکا ہے۔بعض یہ بھی کہتے کہ اس بات کا پتہ نہیں چلتا کہ اس نے شاہی محلات کو اپنے قیام کے لئے اور ان کے پاس ڈیرہ جمانے کے لئے کیوں انتخاب کیا۔بعض تیز نگاہوں نے یہ بھی بھانپ لیا کہ شاہزادی جومحلات پر کبھی کبھی اِدھر اُدھر ٹہلتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، یہ شخص اس پر عاشق ہے۔اور اسی کے عشق میں شاہی محلات کے نیچے دھونی رما کر بیٹھ گیا ہے۔اور یہی آخری خیال عام لوگوں میں شہرت پا گیا۔چنانچہ اس واقعہ کے شہرت پانے پر بہت سے لوگ میرے پاس آتے اور مجھے دیکھتے کہ میں محلات کے نیچے بیٹھا ہوں۔آخر سر کاری آدمیوں اور پولیس وغیرہ کو بھی علم ہوا۔اور انہوں نے آکر مجھے سخت ست کہا اور حکم دیا کہ یہاں سے ڈیرہ اٹھا ؤ اور کسی اور جگہ چلے جاؤ۔شاہی محلات کے پاس تمہارا بیٹھنا مناسب نہیں۔میں سرکاری آدمیوں کی اس بات کا کچھ جواب نہ دیتا اور نہ ہی وہاں سے اُٹھتا۔آخر مہاراجہ نے ان کو کہا کہ اسے کچھ کہنا نہیں چاہیئے ورنہ ہماری بری شہرت سارے شہر بلکہ سارے ملک میں پھیل جائے گی۔ہاں اسے اس جگہ سے کسی دوسری جگہ پر پہنچا دینا چاہیئے۔چنانچہ پولیس نے مجھے پکڑ کر ایک اور جگہ پر لے جا کر چھوڑ دیا۔میں وہاں سے رات کے وقت پھر محلات کے پاس آبیٹھا۔کئی روز ایسا ہی سلسلہ چلتا رہا کہ پولیس کے آدمی مجھے وہاں سے کھینچ کر لے جاتے اور میں پھر لوٹ کر محلات کے پاس آکر ڈیرہ جما لیتا۔کچھ عرصہ تک ایسا ہی سلسلہ جاری رہا۔شہزادی شہر سے باہر ایک بت خانہ میں ٹھا کروں کی پوجا پاٹھ کے لئے دن کو مقررہ وقت اپنی سہیلیوں کے ساتھ ضرور جاتی۔جب وہ جانے لگتی میں بھی اس کے درشن کے لئے اس کے پیچھے ہو لیتا۔جب میرے متعلق اس فعل سے بھی تصدیق ہو گئی کہ واقعی یہ شخص شہزادی کا عاشق ہے اور جب کئی روز میں شاہزادی کے عقب میں بجذ بہ عشق نکل کر جاتا رہا تو شاہزادی کو دن کے وقت ٹھا کر دوارے میں جانے سے روک دیا گیا۔اور حکم ملا کہ بجائے دن کے وہ رات کو جب لوگ سو جائیں۔یعنی ۱۱-۱۲ بجے کے قریب ٹھا کروں کے درشن اور پوجا پاٹھ کے لئے جایا