حیات قدسی

by Other Authors

Page 422 of 688

حیات قدسی — Page 422

۴۲۲ کرے۔چنانچہ میرے عشق کے فسانے علاوہ شہر کے خود شاہی محلات میں شاہی خاندان کی عورتوں مردوں میں بھی شہرت پانے لگے۔بعض نے میری نسبت یہ بھی کہا کہ بیچارہ معذور ہے کسی کو کچھ کہتا تو ہے نہیں۔یعنی صرف محبت کا دیوانہ ہے اور پھر ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا کہ ویسے تو محبت بری چیز نہیں قابل قدر چیز ہے لیکن کم بخت دنیا کی ملامت اور بدگوئی سے عزت کا ڈر ہے اور شاہزادی کی ماں اور باپ با وجو دحکومت اور فرمانروائی کی شان شاہانہ رکھنے کے بہت ہی شریف اور حلیم طبع تھے۔وہ پولیس کو اور ایسا ہی دوسرے ارکان حکومت کو بھی کہتے کہ اس دیوانہ خیال محبت کو کوئی کچھ نہ کہے نہ کوئی اسے مارے نہ اسے گالی دے۔ہاں نرمی سے سمجھ سکے تو سمجھا دیا جائے ورنہ اسے کچھ نہ کہا جائے۔جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہزادی کا دن کو ٹھا کر دوارے جانا ممنوع ہو گیا ہے تو میں رات کو محلات کا طواف کرتا جب مجھے معلوم ہوتا کہ شاہزادی رات کو سہیلیوں کے ساتھ بت خانہ کی طرف نکل کر چلی ہے تو میں بھی کوشش کرتا کہ کسی طرح مجھے بھی موقع مل سکے تو میں۔اس کے پیچھے پیچھے جاؤں۔ایک دفعہ ایک تجویز میرے ذہن میں آئی کہ میں ٹھا کر دوارہ کے مہنت سے مل کر راہ و رسم پیدا کروں اور پھر مہنت صاحب کے ذریعہ کوئی صورت ملاقات کی پیدا کی جائے۔چنانچہ میں پیشانی پر تلک لگا کر گلے میں زنار یعنی جنجو ڈال کر اور بہت سا نذرانہ لے کر شام کے بعد مہنت صاحب کے چرنوں میں پہنچا۔اور عرض کیا کہ میں نے ایک منت مان رکھی ہے کہ آج رات کو ٹھا کر دوارے کی خدمت پوجا پاٹھ آپ کے بجائے میں بجالاؤں۔معلوم نہیں رات کو پوجا کرنے والے پجاری کس کس وقت آتے ہیں۔اور آپ کے ضعیف العمر ہونے کے باعث یہ رات کی بیداری کی تکلیف آپ کے لئے مشکل ہے۔اس لئے آج کے رات آپ آرام فرما دیں اور آپ کا یہ داس آپ کی جگہ رات بھر جاگ کر یہ ڈیوٹی بجا لائے گا۔مہنت کو صاحب نے جب مجھے دیکھا کہ میں نے تلک لگایا ہوا ہے۔اور زنار کے نشان سے بھی صنم پرستوں کی طرح ٹھاکر داس بنا ہوا ہوں اور دھوتی پہن رکھی ہے اور ہاتھ سے مالا کا منکا بھی چلایا جارہا ہے اور میں نے پھلوں کے ٹوکرے کی پیشکش اور نذرانہ بھی مہنت صاحب کے چرنوں کے پاس جا رکھا اور ہاتھ جوڑ کر عرض کیا کہ آپ اس حقیر پیشکش کو جو برگ سبز است کا تحفہ محبت و پریم ہے قبول فرما کر میری دلی تمنا کو بھی جو عرض کرتا ہوں قبول فرمائیں۔چنانچہ مہنت صاحب نے میری درخواست کو قبول کیا اور کہا کہ ٹھا کر دوارے میں رات کے گیارہ بجے کبھی بارہ بجے بلکہ کبھی ایک بجے تک بھی ہماری شاہزادی اپنی سہیلیوں کے ساتھ ٹھاکروں کی پوجا پاٹھ کے لئے تشریف لایا کرتی ہیں۔جب وہ آئیں