حیات قدسی — Page 420
۴۲۰ محبت سے اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھ جائے تو اس صورت میں جان اور مال کی قربانی اس بڑے محبوب کی راہ میں باعث لذت و مسرت ہوتی ہے۔جیسے کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ کے فرمان میں اسی محبت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔لیکن اس آیت میں البر کی نیکی الف لام کے الحاقی اثر سے منعمین کے سب مدارج پر مشتمل پائی جاتی ہے۔ہاں نبیوں کی محبت اعلیٰ درجہ کی بر پر دلالت کرنے والی ہے۔اور اس کے بعد صدیقوں کی۔اس کے بعد شہداء کی۔اس کے بعد صلحاء کی علی قدر مراتب ہر ایک کی قربانی اپنی محبت کے مرتبہ سے مناسبت رکھتی ہے۔دو عاشقوں کا افسانہ حضرت میر صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت اقدس نے اس بزرگ کے متعلق یہ بیان فرمایا کہ اسی سلسلۂ بیعت میں ایک دفعہ دو شخص اس بزرگ کی خدمت میں بیعت کے لئے حاضر ہوئے۔آپ نے ان دونوں سے بھی حسب دستور سابق دریافت فرمایا۔ان میں سے ایک نے اپنا واقعہ اس طرح بیان کیا کہ میں ایک پیچ قوم کی عورت پر عاشق ہو گیا تھا۔پہلے تو حسب مقولہ که عشق آسان نمود اوّل آزادانہ طور پر میل ملاپ کا موقع ملتا رہا لیکن جب اس عورت کے وارثوں اور متعلقین کو معلوم ہوا کہ میرا ان کے ہاں آنا جانا اس عورت کے لئے ہے تو انہوں نے مجھے منع کیا کہ آئندہ تم اس طرف آئے تو ہم بہت سختی کے ساتھ پیش آئیں گے۔چند روز کے وقفہ کے بعد پھر میں ان کے ہاں گیا تو و انہوں نے مجھے گالیاں دیں اور مارا پیٹا۔اس ذلت اور تکلیف واذیت کے احساس پر میں نے عشق بازی سے تو بہ کر لی۔اس ابتلاء کے بعد اس دشمن عزت و جان مجبو بہ کا بھی نام تک لینا بھی پسند نہیں کیا اور مایوس ہو کر اس خیال کو چھوڑ دیا۔جب وہ اپنا واقعہ مذکورہ بالا سنا چکا تو آپ نے اس دوسرے شخص سے فرمایا کہ اگر آپ نے بھی کسی سے عشق کیا ہو تو اس کا واقعہ سنا ئیں۔اس نے بیان کیا کہ میں ایک دن ایک مہاراجہ کے محل کے پاس سے گذرنے لگا۔میری نظر اس محل کی طرف اوپر کو اٹھی تو مجھے ایک حسین شکل نظر آئی جو اپنی مشکیں زلفوں کو بکھیرے ہوئے بام رفعت پر ٹہل رہی تھی۔میری نظر جب اس کے دلکش اور دلر باحسین چہرہ پر پڑی۔اور آنکھیں چار ہوئیں تو آن کی آن میں اس حسینہ کا کشتہ اور تقبیل ناز حسن بن گیا۔اور