حیات قدسی

by Other Authors

Page 352 of 688

حیات قدسی — Page 352

۳۵۲ مالا بار میں درس القرآن جب میں نے مالابار کی سرزمین میں درس القرآن شروع کیا تو احمدی احباب سے کہا کہ میں دو طریق پر درس دے سکتا ہوں۔ایک عام فہم طریق پر سطحی خیال کے لوگوں کے لئے اور دوسرے خاص لوگوں کے لئے جو سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی برکات اور علمی افاضات کے ماتحت مجھے معارف حاصل ہوئے ہیں۔سب احباب نے کہا کہ وہ موخر الذکر طریق کو پسند کرتے ہیں۔چنانچہ میں نے درس القرآن کا سلسلہ شروع کر دیا۔اکیس دن تک تفسیر آیت استعاذہ جاری رہی۔اور إِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ کے رُو سے اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ کے مطالب بیان کئے گئے۔پھر آیت تَسْمِيَّه کی تفسیر کا سلسلہ سوامہینہ تک جاری رہا۔اور الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِین کی تفسیر دو ماہ تک کی گئی۔یہ سلسلہ درس چھ ماہ تک چلتا رہا۔اور میں ابھی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تفسیر تک پہنچا تھا کہ شدید بیمار ہو گیا۔جو درس میں نے کنا نور میں دیا۔اس کا چرچا شہر کے علمی طبقہ میں ہونے لگا۔چنانچہ بہت۔غیر احمدی علماء بھی میرے درس کے حلقہ میں شامل ہوتے رہے۔میری علالت مجھے اسی دوران میں بخار ہونے لگا اور ایک دنبل پیشاب کی نالی کے اوپر مقعد اور فوطوں کے درمیان نمودار ہوا۔جو بڑھتے بڑھتے شلغم کے برابر ہو گیا۔اس شدید تکلیف میں مجھے درس اور تبلیغ کے کام میں ناغہ بھی کرنا پسند نہ تھا۔بعض احباب خصوصاً میرے رفیق سفر شیخ محمود احمد صاحب عرفانی بار بار مجھے آرام کا مشورہ دیتے۔میں ان کی شفقت سے متاثر ہو کر کہتا کہ معلوم نہیں کہ اور کتنی زندگی باقی ہے یہ آخری لمحات تو اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں گزار لئے جائیں۔یہ بخار اور دنبل دونوں مجھے پیغام اجل کے لئے ہوشیار کر رہے ہیں ایسی حالت میں تغافل شعاری اچھی نہیں۔مقامی احباب نے برہمن قوم کے ایک ماہر ڈاکٹر کو میرے علاج کے لئے بلوایا۔انہوں نے میرے دنبل کو دیکھ کر یہ رائے دی کہ اس کا اپریشن کرنا ضروری ہے۔چنانچہ مجھے ایک تختہ پر لٹا کر