حیات قدسی — Page 353
۳۵۳ کلور و فارم سونگھانا چاہا تا کہ اپریشن کے وقت زیادہ تکلیف نہ ہو۔میں نے کہا کہ کلور و فارم سونگھا نے کی ضرورت نہیں۔آپ اس کے بغیر ہی اپریشن کریں۔میں اس تکلیف کو برداشت کرلوں گا۔چنانچہ اپریشن کرنے پر اس دنیل سے بڑا مواد پیپ اور خون کا نکلا۔جس سے ایک بڑا برتن بھر گیا۔اپریشن کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ افسوس ہے کہ دنبل نے پیشاب کی نالی کا وہ حصہ جو اس کے سامنے تھا ، کھا لیا ہے۔اور نالی میں نیچے کی طرف سوراخ ہو گیا ہے۔ان دنوں جب میں پیشاب کرتا تو مجھے سخت تکلیف ہوتی۔اور میں لرزہ براندام ہو جاتا۔اور پیشاب بجائے اصل راستہ کے اسی سوراخ سے نکل جاتا۔ڈاکٹر صاحب نے میری بیماری کے پیش نظر بعض احباب کو کہا کہ اس مریض کا علاج بہت مشکل ہے اور اب یہ بچتا نظر نہیں آتا۔لوح مزار ڈاکٹر صاحب کی اس رائے کا ایک دوست کے ذریعہ مجھے بھی علم ہو گیا۔اور میں نے سمجھا کہ اب میری موت اس غریب الوطنی میں مقدر ہو چکی ہے۔چنانچہ میں نے اپنے احباب کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر میری وفات اسی سرزمین میں واقع ہو جائے تو مجھے کسی ٹیلہ کے پاس دفن کر کے میری لوح مزار پر صرف یہ شعر لکھ دینا :۔گر نباشد به دوست ره بردن شرط عشق است در طلب مردن یعنی اگر محبوب تک پہنچنا ممکن نہیں تو اس کی تلاش میں مرجانا ہی عاشق کے لئے بہتر ہے۔ایک خواب جب میں نے یہ بات کہی تو احباب جماعت بہت ہی غمزدہ ہوئے اور میری شفایابی کے لئے دعائیں کرنے لگے۔جب میں رات کو سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بازار میں سے گذر رہا ہوں جو مشرق سے مغرب کی طرف ہے۔اور جس میں مقتول انسانوں کے اعضاء کاٹ کاٹ