حیات قدسی — Page 81
ΔΙ كــل شــــي يــعــلــمــــــه مـعـلـوم الحق اعجب العجب قدرة واحــ د لا إلـ الا هـ مرسل الرسل منزل الكت اس قصیدہ کے سنانے کے بعد دوسرے دن صبح نو دس بجے کے قریب حضور اقدس نے مجھے یاد فرمایا مگر میں اس وقت کہیں اِدھر اُدھر بازار میں گیا ہوا تھا اس لئے حاضر نہ ہوسکا غالباً تیسری مرتبہ جب حضور اقدس علیہ السلام نے حضرت سیدنا الحمود ایدہ الود و دکو میرے بلانے کے لئے بھیجا تو آپ مجھے آتے ہوئے مسجد مبارک کی اندرونی سیڑھیوں میں مل گئے اور میں حضور کا پیغام سنتے ہی حاضر خدمت ہو گیا۔حضور اقدس اس وقت دروازے میں کھڑے تھے۔مجھے دیکھتے ہی فرمایا کیا آپ کے پاس میری کتاب مواہب الرحمن ہے۔میں نے عرض کیا حضور نہیں۔چنانچہ حضور نے اسی وقت مجھے اپنی یہ تصنیف منیف عطا فرمائی اور اس کے بعد مجھ سے دریافت فرمایا کیا آپ کے پاس اعجاز احمدی ہے میں نے عرض کیا حضور نہیں چنانچہ وہ بھی مجھے حضور اقدس نے عطا فرمائی۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ کیا آپ کے پاس نسیم دعوت ہے۔میں نے عرض کیا حضور نہیں چنانچہ یہ کتاب بھی حضور نے اسی وقت مرحمت فرمائی اور ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ یہ کتابیں میں نے اپنے لئے جلد کروائی تھیں مگر اب آپ انہیں اپنے پاس رکھیں اور مطالعہ کریں۔اور جو میری دوسری شائع شدہ کتا بیں ہیں ان کے متعلق بھی میں ابھی کہدیتا ہوں وہ بھی آپ کو مل جائیں گی۔چنانچہ وہ کتابیں بھی مجھے حضور اقدس کے ارشاد پر حکیم مولوی فضل الدین صاحب بھیروی سے مل گئیں۔الحمد للہ علی ذالک اس واقعہ میں خصوصیت سے حضور اقدس علیہ السلام کا مجھے بلا کر مواہب الرحمن، اعجاز احمدی اور نسیم دعوت مرحمت فرمانا اور یہ ارشاد فرمانا کہ یہ کتابیں میں نے اپنے لئے جلد کروائی تھیں مگر آپ کو دیتا ہوں۔درحقیقت اس طرف اشارہ تھا کہ حضور کے فیضانِ اقدس سے مجھے تین خصوصیات میسر ہوں گی ایک تو خدا تعالیٰ کے رحمانی فیوض اور دوسرے تبلیغ احمدیت میں اعجازی برکتیں اور تیسرے قبولیت دعوات کا نشان۔چنانچہ خدا کے فضل سے ان ہر سہ نشانات کو میں نے آج تک اپنی زندگی کے لئے ما بہ الامتیاز پایا ہے۔میں تقریباً سولہ سترہ سال کی عمر میں احمدی ہوا تھا اور آج خدا کے فضل سے میری عمر پچھتر سال کے قریب پہنچ چکی ہے اور اس دوران میں مجھے سارے ہندوستان میں ہزاروں