حیات قدسی

by Other Authors

Page 82 of 688

حیات قدسی — Page 82

۸۲ مناظروں اور لیکچروں کی توفیق ملی ہے اور باوجود ادھوری اور ناقص تعلیم کے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ مسیح پاک کی برکت سے وہ نشانات ظاہر فرمائے ہیں کہ دشمن سے دشمن بھی ان کا اعتراف کرنے کا پر مجبور ہو جاتا ہے۔میری اس روحانی توجیہہ کی یہ بات بھی تائید کرتی ہے کہ جب حضور اقدس نے کے اپنی دوسری کتابوں کے لئے مجھے یہ ارشاد فرمایا تھا کہ میں ابھی کہہ دیتا ہوں آپ کو دوسری کتابیں بھی مل جائیں گی تو لامحالہ میرے لئے ان ہر سہ کتب کا انتظام بھی حضور اقدس اپنے کسی خادم کے ذریعہ فرما سکتے تھے مگر حضور نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ خصوصیت سے حضور اقدس نے بنفس نفیس مجھے یہ ہر سہ کتب جو حضور کی ذاتی ملکیت تھیں مرحمت فرما ئیں۔الحمد للہ علی ذالک مدرسہ احمدیہ میں مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی جو بعد میں پیغامیوں میں شامل ہو گئے تھے ، بھی اس رات جب میں نے بارگاہ نبوت میں یہ قصیدہ سنایا مجلس میں موجود تھے۔انہیں کسی وجہ سے قریباً دو ماہ کی رخصتوں پر مدرسہ احمدیہ سے جانا پڑا تو انہوں نے اپنی جگہ استاد کے لئے میری سفارش کی۔چنانچہ میں ان کی جگہ قائمقام معلم لگالیا گیا اور اس طرح حضور اقدس علیہ السلام کے زمانہ میں مجھے بھی مدرسہ احمدیہ میں پڑھانے کی سعادت نصیب ہو گئی۔اس زمانہ کے طلباء میں سے جو مجھ سے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے ایک حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔حافظ صاحب ان دنوں مجھ سے حدیث کی کتاب صحیح مسلم اور نحو کی ایک مصری کتاب دروس النحو یہ حصہ سوئم پڑھا کرتے تھے۔فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے میری پہلی ملاقات کے دنوں کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ مفتی محمد صادق صاحب بھیروی حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک انگریزی اخبار ترجمہ کر کے سنا رہے تھے۔اس میں حضرت مریم کے متعلق کوئی ایسا لطیفہ لکھا ہوا تھا جسے سن کر حضور علیہ السلام بہت ہنسے۔میں نے اس وقت بچپن کی بے سمجھی کی وجہ سے اور غلط تصوف کے ضلالت آلود ماحول کی بناء پر خیال کیا کہ اتنی بنی شاید مقدس منصب کے منافی ہو۔رات میں جب اسی فکر میں سویا تو مجھے الہام ہوا