حیات قدسی — Page 587
۵۸۷ میں میں بھی کچھ عرض کروں۔حاضرین کی اجازت سے میں نے کہا کہ کوئی مسلمان قرآن کریم کے فیصلہ کا انکار نہیں کر سکتا۔اگر وہ ایسا کرے تو اس کا ایمان جاتا رہتا ہے۔جناب مولوی صاحب نے حیات مسیح کے متعلق جو کچھ بیان فرمایا ہے اس کا خلاصہ تین امور ہیں (۱) حضرت مسیح علیہ السلام زندہ ہیں (۲) وہ بجسده العنصری زندہ ہیں (۳) آسمان پر اپنے جسم کے ساتھ چڑھے ہیں اور جسم عصری کے ساتھ وہاں موجود ہیں اور ان سب باتوں کا ثبوت قرآن کریم سے ملتا ہے۔میری صرف اتنی گذارش ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جو کچھ مولوی صاحب نے بیان جسده کیا ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں الفاظ دکھا دیے جائیں یعنی لفظ حی اور بے العنصری اور رفع بجسده العنصرى الى السماء اگر یہ الفاظ قرآن کریم میں مل جائیں تو میں ابھی اسی مجلس میں حضرت مسیح کی حیات اور اس کے زندہ آسمان پر چڑھنے کا اقرار کرلوں گا اور جناب مولوی صاحب کی صداقت بھی ثابت ہو جائے گی اور مجھے بھی قرآن کریم کے الفاظ کے مطابق ہدایت نصیب ہو جائے گی۔میں نے حاضرین سے پر زور الفاظ میں خطاب کیا اور کہا کہ کیا یہ طریق فیصلہ سب کو منظور ہے۔سب حاضرین نے میری بات کی تصدیق کی اور غیر احمدی عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ الفاظ قرآن کریم میں دکھائیں ورنہ وہ احمدیوں کے عقیدہ کو درست تسلیم کریں گے۔اس پر غیر احمدی مولوی صاحب نے کہا کہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق قرآن کریم سے مذکورہ الفاظ تو نہیں دکھا سکتا۔لیکن جب میں نے احادیث سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ثابت کر دی ہے تو مزید کسی ثبوت کی کیا ضرورت ہے۔میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور احادیث اس کے پاک نبی کا کلام ہے اور خدا اور اس کے رسول کا کلام آپس میں موافق ہونا چاہیئے جب قرآن کریم سے حیات کا ثبوت نہیں ملتا بلکہ بر خلاف اس کے حضرت مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے تو احادیث قرآن کریم کے مخالف کیسے ہو سکتی ہیں۔مزید براں اگر مذکورہ بالا الفاظ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق احادیث میں پائے جاتے ہیں تو وہی پیش کر دیئے جائیں۔یہ سن کر غیر احمدی مولوی صاحب نے کہا کہ یہ الفاظ بعینہ تو احادیث میں موجود نہیں اور احمدی کے لوگ تاویلوں سے کام لیتے ہیں۔ورنہ بخاری شریف میں صاف لکھا ہے کہ کیف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم و امامکم منکم 72 اس حدیث میں لفظ ابن مریم اور لفظ نزل موجود ہے اگر تاویل