حیات قدسی

by Other Authors

Page 588 of 688

حیات قدسی — Page 588

۵۸۸ نہ کی جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے نزول فرمانا ہے اگر وہ آسمان پر سے نازل ہونے والے نہ ہوتے تو یہ الفاظ حدیث میں کیوں وارد ہوتے۔ان الفاظ میں تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔اگر احمدی لوگ تاویل نہ کریں تو بات صاف ہے۔میں نے جواباً عرض کیا کہ مولوی صاحب نے اپنی طرف سے احمدیوں پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ تاویل کرتے ہیں۔میں ان سے دریافت کرتا ہوں کہ کیا تاویل قرآن کریم کے رو سے نا جائز ہے؟ مولوی صاحب نے کہا ہاں نا جائز ہے۔میں نے عرض کیا کہ ہر صورت میں منع ہے یا بعض صورتوں میں جائز ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر صورت میں منع ہے اور سب کے لئے منع ہے۔میں نے کہا کہ قرآن کریم کی سورہ یوسف میں آتا ہے کہ جب برادرانِ یوسف اور ان کے والدین نے حضرت یوسف علیہ السلام کی شان و شوکت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کیا۔تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا هَذَا تَأْوِيلَ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلِ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًا 78۔اس آیت میں حضرت یوسف نے اپنی رؤیا کی تاویل کا ذکر کیا ہے اسی طرح آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ذکر میں فرمایا ہے وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَاوِيلِ الْاَ حَادِيثِ۔یعنی اے خدا تو نے مجھے تاویل الا حادیث کا علم بھی سکھایا پھر قید خانہ میں دو قیدیوں نے جب آپ سے اپنے خواب کی تعبیر دریافت کی تو حضرت یوسف سے انہوں نے عرض کیا کہ نبئنا بتاویله یعنی ہماری رؤیا کی تاویل سے ہمیں آگاہ فرمائیے۔پھر سورہ آل عمران کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَمَّا الَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ | فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاتَالْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَاوِيْلِهِ ۚ وَمَا يَعْلَمُ تَاوِيْلَةَ إِلَّا اللهُ ؟ والرَّسِحُوْنَفِى الْعِلْمِ يَقُولُونَ امَنَّا بِهِ لا كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا وَمَا يَذَّكَّرُالا أولُو الا لباب۔اس آیت سے یہ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے دلوں میں کبھی ہے وہ محکمات کو نظر انداز کر کے متشابہات کے حصہ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں محض اس لئے کہ یا تو خدا تعالیٰ کے نبی یا رسول کے مبعوث ہونے پر اس کی مخالفت کا پہلو اختیار کریں اور یا محکمات کو ترک کرنے سے لوگوں کے لئے فتنہ کی صورت پیدا کریں جیسا کہ مسیح اور ابن مریم کے لفظ کے ساتھ نزل کا لفظ جو بطور متشابہات کے تھا اسے محکمات کے طور پر پیش کر کے مسیح محمدی حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کے مقابل پر علماء کھڑے ہو گئے اور مسلمان ہو کر یہودیوں اور عیسائیوں کے مسیح کو جو موسوی سلسلہ کا مسیح تھا۔