حیات قدسی — Page 586
۵۸۶ کوئٹہ کا ہولناک زلزلہ جب کوئٹہ میں تباہی انگن زلزلہ آیا تو خاکسار ان دنوں حیدر آباد میں مکرم و محترم جناب نواب اکبر یار جنگ بہادر کی کوٹھی میں مقیم تھا۔جس رات زلزلہ آیا اس کی صبح کو اس کی خبر حیدر آباد میں بھی پہنچی۔بعد نماز فجر میں محترم نواب صاحب کی کوٹھی کے برآمدہ میں ٹہل رہا تھا کہ شہر کے ایک نواب صاحب کار پر آئے اور میرے مقابل پر کار روک کر اس سے باہر نکلے۔علیک سلیک کے بعد مجھ سے دریافت کرنے لگے کہ کیا جناب نواب اکبر یار جنگ بہادر اندر تشریف رکھتے ہیں۔آج رات کوئٹہ میں شدید زلزلہ آیا ہے جس سے بڑی تباہی آئی ہے اس کی جناب نواب صاحب کو اطلاع دینے آیا ہوں۔میں نے جوابا کہا کہ جناب نواب صاحب کوٹھی میں ہی تشریف رکھتے ہیں ان کو ابھی اطلاع بھجواتا ہوں۔ساتھ ہی میں نے کہا کہ ہمارے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے اللہ تعالیٰ سے اطلاع پا کر پانچ زلزلوں کی پیشگوئی فرمائی ہوئی ہے ان میں سے ایک یہ زلزلہ کوئٹہ میں حادثہ نما ہو گیا ہے۔میرے منہ سے ابھی یہ الفاظ نکلے ہی تھے کہ وہ نواب صاحب چیں بجبیں ہو کر بڑبڑاتے ہوئے موٹر پر سوار ہو گئے اور جناب نواب اکبر یار جنگ صاحب سے بات کئے بغیر واپس چلے گئے۔اس وقت مجھے بہت تعجب ہوا کہ یہ صاحب تباہی خیز زلزلہ سے تو بالکل نہیں گھبر ائے لیکن جب ان کو یہ بتایا گیا کہ یہ زلزلہ ایک منجانب اللہ مامور کا نشانِ صداقت ہے اور اس کی پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہے تو وہ اس کے کو برداشت نہ کر سکے حالانکہ یہ ایک حقیقت تھی اور ان کے لئے مناسب تھا کہ کم از کم وہ مجھ سے استفسار کر کے مزید تحقیق فرما لیتے اور اگر بعد تحقیق اس بیان کو درست پاتے تو اس سے فائدہ اٹھا کر ابدی سعادت حاصل کرتے لیکن جب انسان کجروی اختیار کرتا ہے تو وہ راہ سداد کو بالکل فراموش کر دیتا ہے۔انا لله و انا اليه راجعون۔حدیث نزول ابن مریم ایک دفعہ ایک علمی مجلس میں جس میں میں بھی موجود تھا۔ایک غیر احمدی عالم نے بیان کیا کہ حضرت مسیح اسرائیلی علیہ السلام کا قرآن کریم کی رو سے زندہ بجسده العنصری آسمان پر چڑھنا ثابت ہوتا ہے۔جب وہ اپنا مضمون تفصیل سے بیان کر چکے تو میں نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو تو اس تعلق