حیات قدسی — Page 516
۵۱۶ میری اہلیہ نے جب پھر اصرار کیا تو میں نے کہا کہ اس وقت ایک ڈاکٹر ہیں جو بیدار ہیں۔اور زیادہ قریب بھی ہیں۔ان سے عرض کرتا ہوں اگر انہوں نے مہربانی کی تو بہت ممکن ہے کہ بچے کو آرام ہو جائے۔میری بیوی نے پوچھا کہ کون ڈاکٹر ہیں۔میں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خیر الراحمین اور واهب الشفاء ہستی ہیں۔جو سب سے زیادہ قریب ، قادر مطلق اور اَرحَمُ الرَّاحِمین ہیں۔اور سکن کے حکم سے بچے کو بچا سکتے ہیں۔اس کے بعد میں وضو کر کے جائے نماز پر کھڑا ہو گیا۔اس وقت دسمبر کا مہینہ اور سخت سردی پڑ رہی تھی۔اور بچہ کی حالت نہایت نازک اور آخری سانس معلوم ہوتے تھے بلکہ نزع کی حالت تھی۔جب میں نماز کے لئے کھڑا ہوا تو اللہ تعالیٰ ہاں محسن و کریم خدا کی طرف سے خاص دعا کی تو فیق ملے گئی۔طبیعت میں دعا کے لئے انشراح پیدا ہو گیا۔اور روح جوشِ رفت سے گداز ہو کر آستانہ الہی پر بار بار جھکنے لگی۔اور نہایت عجز و انکسار اور تضرع سے بارگاہ قدس میں طالب شفا ہوئی۔ابھی میں سلام پھیر کر نماز سے فارغ نہ ہوا تھا کہ بچے کی حالت سنبھل گئی۔وہ چار پائی پر اٹھ کر بیٹھ گیا اور والدہ نے اسے گود میں بٹھا لیا۔پھر میں نے گود میں اٹھایا۔اور وہ کھیلتا کھیلتا تھوڑی دیر میں سو گیا جب صبح اٹھا تو بیماری کا نام ونشان نہ تھا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ عزیز اقبال احمد کے متعلق تیسرا واقعہ جب عزیز اقبال احمد کی عمر سات آٹھ سال کی تھی۔اور وہ پرائمری میں پڑھتا تھا۔اس کی والدہ اپنے میکے گئی ہوئی تھیں۔اور وہ میرے پاس لاہور میں اکیلا تھا کہ ان دنوں ایک غیر احمدی مولوی اللہ دتا جو مشہور واعظ تھے۔اور انہوں نے ایک پنجابی منظوم رسالہ ” پنجابی چرخہ “ کے نام سے شائع کیا تھا۔اور اس نظم کو خوش الحانی سے مختلف مجالس میں پڑھ کر لوگوں کو محفوظ و متاثر کرتے تھے۔وہ میرے درس قرآن میں بھی شریک ہونے لگے۔اور احمدیوں کے بیان کردہ حقائق سے بہت متاثر ہوئے۔چونکہ ان کی رہائش ہمارے سکونتی مکان کے قریب تھی۔اس لئے وہ کبھی کبھی میرے پاس گھر میں بھی ملاقات کے لئے آجاتے۔اور مختلف آیات کے معانی و مطالب کے متعلق استفسار کرتے رہتے۔