حیات قدسی — Page 517
۵۱۷ ایک دن وہ گھر پر آئے اور عزیز اقبال احمد سے باتیں کرتے رہے۔ان کے سوالات کے جب اس نے با وجو د صغرسنی کے بہت معقول اور عمدہ جواب دیئے۔تو وہ بہت متاثر ہوئے۔اور بار بار کہتے کہ یہ لڑکا تو آفت ہے۔اس نے مجھ جیسے جہاندیدہ کو ساکت کر دیا ہے اور جو بات بھی میں نے اس کا سے دریافت کی ہے اس کا حیرت انگیز جواب دیا ہے۔جونہی وہ مولوی صاحب عزیز اقبال احمد کے متعلق حیرت کا اظہار کرتے ہوئے گھر سے باہر نکلے۔اقبال احمد کو شدید بخار اور سارے جسم میں درد شروع ہوگئی اور اس کی آنکھیں اس قدر متورم ہو گئیں کہ نظر بالکل بند ہو گئی۔میں نے محسوس کیا کہ شائد اس فاسد ملاں کی نظر بد کا اثر ہوا ہے۔اور اس کی زہریلی توجہ سے یہ بچہ بیمار ہو گیا ہے۔کیونکہ نظر بد کا لگنا بھی نظام قانونِ طبعی کے سلسلہ تاثیرات و تاثرات سے تعلق رکھتا ہے۔اور الْعَيْنُ حَق کا فرمانِ نبوی اس کا مصدق ہے۔اسی لئے بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ سوم چھوٹے بچوں کی ٹھوڑی یا چہرہ پر سیاہ داغ لگا دیتے تھے۔تاکہ نظر بد کے اثر سے بچ جائیں۔بہر حال عزیز اقبال احمد کے متعلق مجھے نظر بد کے لگنے کا ہی خیال ہوا۔میں نما زمغرب کے لئے مسجد میں گیا۔اور وہاں پر بعض ضروری امور کی سرانجام دہی کی وجہ سے مجھے دیر ہو گئی۔جب میں مکان پر واپس آیا۔تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرا بچہ شدت تکلیف و درد سے کراہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کر رہا ہے کہ ”اے میرے مہربان خدا مجھ پر مہربانی فرما۔میری تکلیف کو دور کر دے۔اور میری ننھی سی جان پر رحم فرما۔اب تو میری آنکھوں سے کچھ نظر بھی نہیں آتا۔ان کو صحت دے تا کہ میں دوبارہ دیکھنے لگ جاؤں“ جب میں نے بچہ کو اس طرح دعا کرتے ہوئے سنا تو میرا قلب جوش شفقت اور جذ بہ ترنم سے بے تاب ہو گیا۔میں نے اس کو گود میں بٹھا لیا۔اور اشکبار آنکھوں سے اور تضرع اور اضطراب سے دعا میں مشغول ہو گیا۔میں دعا کر ہی رہا تھا کہ مجھ پر کشفی حالت طاری ہوگئی۔اور میں نے اپنے خیر الرَّاحِمِين اور خَيْرُ الْمُحْسِنِین خدا کو سامنے دیکھا۔اس رؤف و رحیم اور بے مثل خدا نے مجھے فرمایا کہ