حیات قدسی

by Other Authors

Page 491 of 688

حیات قدسی — Page 491

۴۹۱ سنے گی ، ایک شیطانی وسوسہ ہے۔بے شک خدا تعالیٰ غنی ہے اور اس کو کسی کی پرواہ نہیں۔لیکن وہ خاص فیاضانہ اور محسنا نہ شان رکھتا ہے۔اور اس میں بخل کا کوئی شائبہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اسلامی تعلیم کی رو سے يعنى الْبَخِيلُ عَدُوٌّ الله کے ارشاد کے ماتحت بخل محسن خدا کی شان نہیں۔بلکہ اس کے دشمنوں کا طریق ہے۔ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کے بچہ کو معجزانہ شفا میں سطور بالا میں ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب کے متعلق ذکر کر رہا تھا کہ ان کو مجھ پر ابتداء میں حسن ظن تھا۔بلکہ قبولیت دعا کے متعدد واقعات دیکھ کر ان کی اہلیہ صاحبہ بھی جو شیعہ مذہب رکھتی تھیں مجھ پر حسن ظن کرتی تھیں۔اور اکثر دعا کے لئے کہتی تھیں۔ایک دفعہ ان کا چھوٹا لڑکا بشیر حسین بھر چھ سات سال سخت بیمار ہو گیا۔ڈاکٹر صاحب خود بھی خاص توجہ سے اس کا علاج کرتے۔اور دوسرے ماہر ڈاکٹروں اور طبیبوں سے بھی اس کے علاج کے لئے مشورہ کرتے تھے۔لیکن بچہ کی بیماری دن بدن بڑھتی چلی گئی۔یہاں تک کہ ایک دن اس کی حالت اس قدر نازک ہوگئی کہ ڈاکٹر صاحب اس کی و صحت سے بالکل مایوس ہو گئے۔اور یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کا وقت نزاع آ پہنچا ہے۔گورکنوں کو قبر کھود نے کے لئے کہنے کے واسطے اور دوسرے انتظامات کے لئے باہر چلے گئے۔اس نازک حالت میں ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے بڑے عجز وانکسار اور چشم اشکبار سے مجھے بچہ کے لئے دعا کے واسطے کہا۔میں ان کے الحاح اور عاجزی اور بچہ کی نازک حالت سے بہت متاثر ہوا اور میں نے پوچھا کہ یہ رونے کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بعض رشتہ دار عورتیں اندر بشیر کی مایوس کن حالت کے پیش نظر ا ظہار غم والم کر رہی ہیں۔میں نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں۔لیکن اس شرط پر کہ آپ سب بشیر کی چار پائی کے پاس سے دوسرے کمرے میں چلی جائیں۔اور بجائے رونے کے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا میں لگ جائیں۔اور مشغول ) بشیر حسین کی چارپائی کے پاس جائے نماز بچھا دیا جائے۔تا میں نماز اور دعا میں ہو جاؤں۔والدہ صاحبہ بشیر حسین نے اس کی تعمیل کی۔مجھے اس وقت سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان فرمودہ قبولیت دعا کا گر یاد آ گیا۔اور میں کمرہ سے باہر نکل کر کیلیا نوالی سڑک کے کنارے جا کھڑا ہوا۔اور ایک ضعیف اور بوڑھی عورت کو جو وہاں سے گذر رہی تھی آواز