حیات قدسی — Page 490
۴۹۰ اور خدا تعالیٰ کے کئی اولوالعزم نبیوں کو دیکھا۔اور ان کے کلام کو سنا۔اور ان سے ملاقات کی۔بلکہ حضرت سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی بار ہا زیارت نصیب ہوئی۔اور حضور کا مقدس کلام سنا۔میں نے عالم ملکوت کی سیر بھی کی۔اور مجھے فرش سے عرش تک جانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔بلکہ دائرہ خلق سے اوپر اور وراء الوراء جسے لا مکان کہتے ہیں وہ بھی میری سیرگاہ میں شامل کیا گیا۔لیکن با وجود اس بلند پروازی کے عالم لاہوت کے بحر محیط اور عمیق سے جو کچھ مجھے ملا وہ ایک قطرہ سے بھی کروڑوں درجہ کم محسوس ہوا۔میں دعاؤں کا سلسلہ اس حد تک جاری رکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے دعا کا جواب مل جائے۔اور میرے نزدیک دعا کے لئے یہی حد ہے کہ جب تک جواب نہ ملے دعا کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔مسلمانوں ہاں حقیقی اسلام کے ماننے والوں پر یہ خدا تعالیٰ کا عظیم الشان فضل ہے کہ اس نے سید نا ومولانا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم اور نائب الرسول حضرت احمد علیہ السلام کے افاضات اور برکات سے ان کو قبولیت دعا کی نعمت عظمی عطا فرمائی۔جو لوگ اس نعمت کو نہیں سمجھتے۔اور اس کی قدر نہیں کرتے کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ امت محمدیہ کے افراد اسرائیلی مردوں اور عورتوں سے بھی گئے گزرے ہیں کہ اسرائیلیوں کو تو اللہ تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہوا۔لیکن امت محمدیہ جیسی خیر امت اس کو سے محروم ہے۔پس یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ دعاؤں کی عادت ڈالی جائے۔اور اس سلسلہ کو کبھی منقطع نہ کیا جائے۔دعاؤں کے ذریعہ سے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی طرف خاص رحمت اور رافت سے متوجہ ہوتا ہے۔اس تعلق میں مجھے اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کے وسیع ترین بلا مبادلہ اور بلا معاوضہ فیوض کی بارشوں پر غور کرنے سے بہت ہی فائدہ ہوا۔جو محسن اور فیاض ہستی از خود ہمارے وجود کے ذرہ ذرہ کو اور اس کے ہر عضو اور ہر قوت اور ہر حس کو پیدا کر کے اس کے قیام و بقا کے انتظام کے لئے تمام عالمین کو ہمارے تعاون میں لگائے ہوئے ہے۔اور ہر لمحہ اور ہر آن اپنی رحمتوں کی بارشیں ہمارے اوپر برسا رہی ہے۔اس کے متعلق یہ سوء ظن کہ اس کو ہماری کیا پرواہ ہے۔اور وہ ہماری التجائیں کیونکر