حیات قدسی

by Other Authors

Page 31 of 688

حیات قدسی — Page 31

۳۱ سے وہ اپنی ساری قوم اور آپ لوگوں سے مذہب کی بناء پر علیحدہ ہوا ہوں ، اس لئے بہتر ہے کہ آپ لوگ مولوی احمد دین کو بلا کر میرے ساتھ گفتگو کرائیں تا کہ جس شخص کے پاس بھی سچائی ہے لوگوں کو معلوم ہو جائے۔چوہدری جان محمد نے کہا بات تو معقول ہے ہم ابھی مولوی احمد دین کو کہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے جب مولوی احمد دین کو میرا یہ پیغام سنایا تو وہ کہنے لگا مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس موضع کے تمام زمیندار مولوی غلام رسول را جیکی کی قوم کے ہیں اس لئے میں ڈرتا ہوں کہ یہاں کوئی فساد نہ ہو جائے۔میں نے کہلا بھیجا کہ مولوی احمد دین جیسا بھی چاہیں اپنے امن و تحفظ کے متعلق تسلی کر لیں مگر میرے ساتھ گفتگو ضرور کریں۔اس کے بعد مولوی احمد دین نے گھوڑی منگوائی اور موضع گڑ ہو بھاگو گیا۔جہاں چند روز کے قیام کے بعد لوگوں کو معلوم ہوا کہ اسے آ تشک ہوگئی ہے۔پھر وہاں اپنے وطن ضلع جہلم چلا گیا اور دوبارہ ہمارے علاقہ میں آنے کی اسے جرات نہ ہوسکی اور سنا کہ وہ وہاں وطن میں جلد ہی مر گیا اور دنیا میں اسے رہنے کے لئے زیادہ مہلت نہ مل سکی۔مولوی احمد دین کی اس شکست فاش کو دیکھ کر بھی جب موضع خوجیا نوالی کے لوگوں کی آنکھیں نہ کھلیں تو میں نے چند روز موضع مذکور میں قیام کیا اور ان لوگوں کو سمجھایا۔مگر پھر بھی ان لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا تو میں نے رات خواب میں دیکھا کہ اس گاؤں پر طاعون نے ایسا حملہ کیا ہے کہ گھروں کے گھر ویران ہو گئے ہیں۔چنانچہ ابھی کچھ دن ہی گزرے ہوں گے کہ اس خواب کی تعبیر وقوع میں آئی اور یہاں کے تقریباً گیارہ سو آدمی طاعون کا شکار ہو گئے۔لوگوں نے جب دیکھا کہ گرد ونواح کے دیہات میں بالکل امن ہے اور یہاں ایک قیامت برپا ہے تو ان میں سراسیمگی پیدا ہوئی اور آپس میں کہنے لگے آخر اس عذاب کی و کیا وجہ ہو سکتی ہے۔اس وقت ایک آدمی نے بتایا کہ میں نے رات خواب میں دیکھا ہے کہ لوگ اس تباہی کے متعلق چہ میگوئیاں کر رہے ہیں تو ایک بزرگ انسان یا فرشتہ ظاہر ہوا ہے اور اس نے بتایا ہے کہ اس عذاب کا موجب وہ تھپڑ ہے جو خدا کے ایک بندے کو خدا کا حکم سناتے ہوئے اس گاؤں میں مارا گیا تھا۔فاعتبروا یا اولی الابصار - میرے گاؤں موضع را جیکی وڑائچاں کے بعض واقعات گذشته رویا و کشوف میں سے ایک رویا جس میں گیارہ انبیاء علیہم السلام نے مجھے اندھے کنویں سے نکالا تھا اس کا بقیہ حصہ یہ ہے کہ میں نے کنویں میں سے نکلنے کے بعد دوسری جانب نظر اُٹھائی تو