حیات قدسی

by Other Authors

Page 32 of 688

حیات قدسی — Page 32

۳۲ گیارہ آدمیوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔تو انہی انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نے فرمایا کہ یہ لوگ یوسف کے گیارہ بھائی ہیں۔مذکورہ بالا رؤیا کے اس حصہ کی تعبیر جو بعد میں ظاہر ہوئی یہ تھی کہ میرے احمدی ہونے کے بعد میرے جد امجد حضرت میاں نور صاحب چنابی علیہ الرحمہ کی اولاد کے گیارہ گھرانے جو اس وقت موجود تھے انہی کے بعض افراد یوسف کے بھائیوں کی طرح میری مخالفت و عداوت پر کمر بستہ ہو گئے۔اور دور دور سے علماء کو بلا کر میری تکفیر کا موجب ہوئے۔پھر یہ بغض و عناد یہاں تک پہنچا کہ میرے ان قرابتداروں میں سے بعض نے مجھ پر نقص امن اور اقدام قتل کا جھوٹا الزام لگا کر عدالت میں دعویٰ دائر کر دیا۔مگر وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے اور وہ خدا جس کی رضا کے لئے میں نے ان لوگوں کے مسلک کو چھوڑا تھا وہ میری فریا درسی کے لئے پہنچا اور ان کے منصوبوں کو اس نے خاک میں ملا دیا مگر افسوس صد افسوس کہ پھر بھی ہمارے بعض قریبی رشتہ داروں اور ہمارے گاؤں کی وڑائچ برادری کو میرے سید و مولا حضرت مسیح قادیانی کی صداقت کو قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔اور اکثر اس مائدہ آسمانی سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہ گئے۔اعجاز نما واقعہ صداقت (قم باذن الله ) اسی زمانہ میں جبکہ میں اپنے گاؤں اور علاقہ کے لوگوں کو احمدیت کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔بعض بڑی عمر کے بوڑھے مجھے کہا کرتے تھے کہ تم تو بچے ہوا گر مرزا صاحب کے دعوے میں کوئی صداقت ہوتی تو و آپ کے تایا حضرت میاں علم الدین صاحب جو اس زمانہ کے غوث اور قطب ہیں اور چالیس سیپارے قرآن مجید کے ہر روز پڑھتے ہیں اور صاحب مکاشفات ہونے کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضوری بھی ہیں وہ نہ مرزا صاحب کے دعویٰ کو تسلیم کر لیتے۔میں انہیں اس قسم کے عذرات لنگ پر بہتیر سمجھا تا مگر وہ ایک وقت تک یہی رٹ لگاتے رہے۔آخر میں نے انہیں کہا کہ بتاؤ اگر حضرت میاں صاحب میرے سید و مولا حضرت مسیح قادیانی علیہ السلام کو نبی اور امام مہدی تسلیم کر لیں تو کیا تم لوگ ان پر بد گمانی کرتے ہوئے حضور اقدس علیہ السلام کی بیعت سے انحراف تو نہیں کرو گے۔اس وقت ان لوگوں میں سے بعض نے جواب دیا کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ حضرت میاں صاحب مرزا صاحب پر ایمان لے آئیں اور ہمارا سارا علاقہ ان کے پیچھے ایمان نہ لائے۔احمدیت