حیات قدسی — Page 27
۲۷ سے دوبارہ زندگی عطا فر مادی اور وہ بالکل صحت یاب ہو گیا۔اس کرشمہ قدرت کا ظاہر ہونا تھا کہ اس گاؤں کے علاوہ گردونواح کے اکثر لوگ بھی حیرت زدہ ہو گئے اور جا بجا اس بات کا چرچا کرنے لگ گئے کہ آخر مرزا صاحب کوئی بہت بڑی ہستی ہیں جن کے مریدوں کی دعا میں اتنا اثر پایا جاتا ہے۔اس کا کے بعد خدا تعالیٰ کے جلالی و قہری ہاتھ نے ملاں محمد عالم کو پکڑا اور اس کی روسیا ہی اور رسوائی کے بعد اسے ایسے بھیا نک مرض میں مبتلا کیا کہ اس کے جسم کا آدھا طولانی حصہ بالکل سیاہ ہو گیا اور وہ اسی مرض میں اس جہان سے کوچ کر گیا انَّ السموم لشرّ ما في العالم شر السموم عداوة الصلحاء موضع جاموں بولا کا واقعہ موضع جاموں بولا جو ہمارے گاؤں سے جانب شمال دو کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔وہاں کے اکثر زمیندار ہمارے بزرگوں کے ارادتمند تھے۔جب انہوں نے جیون خان ساکن دھد رہا کیا معجزانہ بیماری اور معجزانہ صحت یابی کا حال سنا تو ان میں سے خان محمد زمیندار میرے والد صاحب بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرا چھوٹا بھائی جان محمد عرصہ سے تپ دق کے عارضہ میں مبتلا ہے آپ از راہ نوازش میاں غلام رسول صاحب سے فرما ئیں کہ وہ کچھ روز ہمارے گھر پر ٹھہریں اور جان محمد کے لئے دعا کریں تا کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی صحت عطا فرما دے۔چنانچہ اس کی اس کا درخواست پر والد صاحب کے ارشاد کے ماتحت میں ان کے یہاں چلا آیا اور آتے ہی وضو کر کے نماز میں اس کے بھائی کے لئے دعا شروع کر دی۔سلام پھیرتے ہی میں نے ان سے دریافت کیا کہ اب جان محمد کی حالت کیسی ہے۔گھر والوں نے جواب دیا کہ بخار بالکل اتر گیا ہے اور کچھ بھوک بھی محسوس ہوتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد چند دنوں کے اندر ہی اس کے نحیف و نا تواں جسم میں اتنی طاقت آگئی کہ وہ چلنے پھرنے لگ گیا۔اس نشان کو دیکھ کر اگر چہ ان لوگوں کے اندر احمدیت کے متعلق کچھ حسن ظنی پیدا ہوائی مگر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلقہ بیعت میں کوئی شخص نہ آیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا کہ اس مریض کو جو صحت دی گئی ہے وہ ان لوگوں پر اتمام حجت کی غرض سے ہے اور اگر انہوں نے احمدیت کو قبول نہ کیا تو یہ مریض اسی شعبان کے مہینہ کی اٹھائیسویں تاریخ کی