حیات قدسی

by Other Authors

Page 26 of 688

حیات قدسی — Page 26

۲۶ با وجود ملاں محمد عالم کے روکنے کے ہمارے گاؤں کے نمبر دار کے پاس آئے اور اسے میرے راضی کرنے کے لئے کہا۔اس نے جواب دیا کہ میاں صاحب اگر چہ ہماری برادری کے آدمی ہیں مگر ان کے گھرانے کی بزرگی کی وجہ سے آج تک ہمارا کوئی فردان کی چار پائی پر بیٹھنے کی جرات نہیں کرتا۔میں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں اس قسم کی باتوں میں ان کی کوئی بے ادبی نہ ہو جائے۔بالآخر وہ ہمارے نمبر دار کو لے کر میرے والد صاحب محترم اور میرے چا میاں علم الدین صاحب اور حافظ نظام الدین صاحب کے ہمراہ میرے پاس آئے اور اپنے سروں سے پگڑیاں اتار کر میرے پاؤں پر رکھ دیں اور چینیں مار مار کر رونے لگے اور کہنے لگے اب یہ پگڑیاں آپ ہمارے سر پر رکھیں گے تو ہم جائیں گے ورنہ یہ آپ کے قدموں پر ہی دھری رہیں گی۔ان کی اس حالت کو دیکھ کر میرے والد صاحب اور میرے بچوں نے ان کو معاف کرنے کی سفارش کی جسے بالآخر میں مان کر اپنے بزرگوں کی معیت میں ان لوگوں کے ساتھ دھو رہا پہنچا۔جیون خاں نے جب مجھے آتے ہوئے دیکھا تو میری تو بہ میری تو بہ کہتے ہوئے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے اور اتنا رؤیا اور چلایا کہ اس کی اس گریہ وزاری سے اس کے تمام گھر والوں نے بھی رونا اور پیٹنا شروع کر دیا۔اس وقت عجیب بات یہ ہوئی کہ وہ جیون خاں جسے علاقہ کے طبیب لا علاج سمجھ کر چھوڑ گئے تھے ہمارے پہنچتے ہی افاقہ محسوس کرنے لگا اور جب تک ہم وہاں بیٹھے رہے وہ آرام سے پڑا رہا مگر جب ہم اپنے گاؤں کی طرف لوٹے تو پھر کچھ دیر کے بعد اس کے درد و کرب کی وہی حالت ہوگئی جس کی وجہ سے پھر اس کے رشتہ داروں نے مجھے بلانے کے لئے آدمی بھیجا۔اور میں والد صاحب اور اپنے بچوں کے فرمانے پر اس آدمی کے ہمراہ جیون خان کے گھر چلا آیا۔یہاں پہنچتے ہی اس گھر کی تمام عورتوں اور مردوں نے نہایت منت وزاری سے مجھے کہا کہ جب تک جیون خاں کو صحت نہ ہو جائے آپ ہمارے گھر ہی تشریف رکھیں اور اپنے گاؤں نہ جائیں۔ادھر ملاں محمد عالم اور اس کے ہمنواؤں نے جب میری دوبارہ آمد کی خبر سنی تو جا بجا اس بات کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا کہ وہ مریض جسے علاقہ بھر کے اچھے اچھے طبیب لا علاج بتا چکے ہیں اور اب لب گور پڑا ہوا ہے یہ مرزائی اسے کیا صحت بخشے گا۔یہ باتیں جب میرے کانوں میں پہنچیں تو میں نے جوش غیرت کے ساتھ خدا کے حضور جیون خاں کی صحت کے لئے نہایت الحاح اور توجہ سے دعا شروع کر دی۔چنانچہ ابھی ہفتہ عشرہ بھی نہیں گذرا تھا کہ جیون خان کو خدا تعالیٰ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اعجازی برکتوں کی وجہ