حیات قدسی — Page 331
کرتا بلکہ برداشت بھی نہیں کر سکتا۔اسی طرح خدا تعالیٰ کا یہ منشاء ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کو واحد سمجھ کر یاد کریں اور کسی کو اس کا شریک اور کفونہ بنائیں۔اب اس طریق پر معنی کرنے سے تضاد بھی رفع ہو جاتا ہے اور لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ کی محکم آیت کے خلاف بھی مفہوم نہیں رہتا۔اس طرح مناسب تاویل سے جو مشابہات کی گئی ہیں محکمات کے مطابق مفہوم ظاہر ہو گیا اور کوئی اعتراض بھی باقی نہیں رہا۔پس جس طرح فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمُ کے الفاظ سے صحیح معنے کے اعتبار سے خالص تو حید کا اظہار ہوا۔اسی طرح اَنْتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی میں بھی اسی خالص تو حید کا ذکر ہے نہ کہ ابن اللہ بنانے کا۔اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تو مجھ سے بمنزلہ میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہے جو میری تو حید کے لئے ایسی ہی غیرت رکھتا ہے جیسا ایک غیور بیٹا اپنے باپ کی توحید کے لئے۔کیونکہ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمُ کے ارشاد پر سب سے زیادہ عمل کر کے اللہ تعالیٰ کا ذکر باپ کی طرح کرنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔اور انتَ مِنِّى بِمَنْزِلَةِ وَلَدِی۔دراصل وَإِذَ الرُّسُلُ أَقتَتْ کی تفسیر ہے یعنی آپ چونکہ جرى الله في حلل الانبیاء ہیں۔اس لئے گذشتہ تمام رسول جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے غیرت رکھتے تھے انہی کے بمنزلہ آپ کو پیدا کر کے آپ کو اللہ تعالیٰ کی توحید کے لئے ایسا ہی غیرت مند بنایا گیا جیسے اولا دا اپنے باپ کی توحید کے لئے غیرت مند ہوتی ہے۔پس بمنزلة ولدی میں حضرت مرزا صاحب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بمنزله بیان کیا گیا ہے۔اور بمنزلة اولادی میں آپ کو گذشتہ تمام رسولوں کے بمنزله پیش کیا گیا ہے۔اور یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی اس خالص تو حید کے لئے استعمال کئے گئے ہیں جو حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ اکناف عالم میں پھیلے گی۔میں نے اس مفہوم کو جب تفصیل کے ساتھ بیان کیا تو مولوی محی الدین صاحب مع اپنے رفقاء کے اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آ۔گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔با وجود اس کے کہ گوجرانوالہ میں کثرت سے بولنے کی وجہ سے میرا گلا خراب تھا اور طبیعت بھی خراب تھی۔اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی توجہ سے اس وقت مجھے خاص طور پر توفیق دی اور خدمت سلسلہ کا موقع ملا۔فالحمد للہ علی ذالک