حیات قدسی — Page 330
۳۳۰ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِ كُمُ ابَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا 87 اور وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمى 88 اور إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله يَدُ اللهِ فَوقَ أَيْدِيهِمْ۔اسی طرح أَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَتَمَّ وَجُهُ اللهِ 10 یہ سب الفاظ متشابہات کے طور پر وارد ہوئے ہیں۔ان کو ظاہر پر حمل کر کے معانی کرنا درست نہیں بلکہ ان کی تاویل کی جاتی ہے۔اسی طرح با وجود اس کا کے کہ اللہ تعالیٰ کا انسانوں کی طرح کوئی مکان نہیں۔اور وہ مکانی قیود و حدود سے پاک اور منزہ ہے۔پھر بھی قرآن کریم میں آیا ہے کہ آنُ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السجود 41۔اس آیت میں کیا لفظ بیتی کی سی اسی طرح وارد نہیں ہوئی جیسے وَلَدِی میں استعمال ہوئی ہے۔پھر صحیح بخاری میں یہ الفاظ ہیں کہ إِذَا أَحْبَبْتُهُ فَكُنتُ سَمُعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِي يَبْصُرُ بِهِ وَ يَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَ رِجُلَهُ الَّتِي يَمُشِى بِهَا 12۔یہ حدیث قدسی ہے اور اللہ تعالیٰ کا الہامی کلام ہے۔اب اگر کوئی انسان خدا کا ہاتھ ، آنکھ ، کان اور پاؤں بن سکتا ہے اور اس پر علماء اہل حدیث کو کوئی اعتراض نہیں تو بمنزلة ولدی کے الفاظ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے کا پاؤں بن جاتا ہے۔اور اس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کی کوئی ہتک نہیں ہوتی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی اور وَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَال - اب حديث قدسی میں جو مثالیں دی گئی ہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کے قرآن میں مندرج ارشاد کے بظاہر مخالف نہیں۔پس اگر حدیث قدسی پر اعتراض کو رفع کرنے کے لئے تاویل کرنے کی گنجائش ہے تو حضرت مرزا صاحب کے الہام کے متعلق تاویل کیوں نہیں ہوسکتی۔صحیح تاویل کی مثال میں قرآن کریم کی آیت فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذكرًا کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف تو قرآن کریم کی محکم آیت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَد ہے یعنی خدا تعالیٰ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ بیٹا اور دوسری طرف یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے باپوں کے ذکر کی طرح یا د کر و۔اس ارشاد میں بظاہر لَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الأَمْثَال اور لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَی کے ارشاد سے تضاد اور تخالف نظر آتا ہے۔لیکن حقیقت میں نگاہیں اس تخالف کو تاویل صحیح سے دور کر لیتی ہیں۔اور اس کا مفہوم یہ لیتی ہیں کہ جس طرح باپ ایک ہوتا ہے اور کوئی بیٹا اپنے باپ کا شریک بنانا پسند نہیں