حیات قدسی — Page 329
۳۲۹ اس پر مولوی محی الدین صاحب نے کہا کہ ہمارا سوال بمنزلة کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ ولدی اور اولادی کی ي متکلم کے لحاظ سے ہے۔اور ان الفاظ میں یہ پایا جاتا ہے کہ گو یا اللہ تعالیٰ اپنے بیٹے یا بیٹوں کے وجود کو تسلیم کر کے مرزا صاحب کو ان کے بمنزلة قرار دیتا ہے۔پس الہام کے الفاظ سے یہ امر تو ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بیٹے تسلیم کئے گئے ہیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کے بیٹے قرار دینا گالی اور کفر ہے تو یہ الہام جس کو خود مرزا صاحب (علیہ السلام ) اور آپ کے متبعین سچا سمجھتے ہیں ان کے کفر پر دلالت کرتا ہے (نعوذ باللہ ) جواباً حافظ صاحب نے فرمایا کہ مثنوی میں حضرت مولانا روم نے فرمایا ہے اولیاء اطفال حق انداے پسر اے بیٹے اولیاء اللہ کے اطفال ہیں۔تو کیا آپ حضرت مولوی رومی کے متعلق بھی کفر کا فتویٰ کو صادر کریں گے۔اس پر مولوی محی الدین کہنے لگے کہ مولوی رومی ہوں یا کوئی اور ہوں۔ہمیں اس سے غرض نہیں۔ہم تو شریعت کے رو سے دیکھیں گے کہ یہ قول کیسا ہے۔اور اس سے کیا نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔آیا مولوی رومی کا فر بنتے ہیں یا کفر سے بچتے ہیں۔حضرت حافظ صاحب نے فرمایا کہ مثنوی کے اس قول کے کو ہزا ر ہا اولیاء اور صوفیائے عظام درست تسلیم کرتے آئے ہیں۔کیا آپ اس وجہ سے صاحب مثنوی کو اور ان ہزار ہا اولیاء واقطاب کو کافر کہنے کی جرات کر سکتے ہیں۔اس پر مولوی محی الدین صاحب نے اپنا پہلا فقرہ دوہرایا۔اور کہا کہ شریعت مقدم ہے نہ کہ مولوی رومی یا کوئی اور بزرگ۔اس موقع پر میں نے مولوی محی الدین کو کہا کہ اگر چہ حضرت حافظ صاحب نے آپ کے سوال کا شافی جواب دے دیا ہے لیکن اگر اجازت ہو تو میں بھی کچھ عرض کروں۔چنانچہ ان کی خواہش پر میں نے عرض کیا کہ جن الفاظ پر آپ نے اعتراض کیا ہے۔وہ حضرت مرزا صاحب کے اپنے الفاظ نہیں بلکہ وہ الہام الہی کے الفاظ ہیں۔اور یہ بات حضرت مرزا صاحب یا آپ کے ماننے والوں کے مسلمات میں سے نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کوئی ولد ہے یا اولاد ہے۔پس جب ولد اور اولاد کے الفاظ نہ حضرت مرزا صاحب کے اپنے ہیں۔اور نہ یہ احمد یہ جماعت کے مسلمات میں سے ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی بیٹا یا بیٹے بنائے ہیں تو حضرت مرزا صاحب یا آپ کے متبعین پر کفر کا فتویٰ کیسے صادر ہو سکتا ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس الہامی کلام کی رسالہ معیار الاصفیاء اور حقیقۃ الوحی میں تشریح فرمائی ہے اور اس کو از قبیل متشابہات بیان فرمایا ہے۔جیسے قرآن کریم میں یہ الفاظ ہیں کہ