حیات قدسی — Page 295
۲۹۵ ایک عجیب نظارہ ایک دن میں مسجد احمد یہ پشاور میں بیٹھا ہوا تھا۔میرے پاس مکرمی میاں شمس الدین صاحب امیر جماعت احمد یہ پشاور بھی بیٹھے ہوئے تھے۔مجھ پر اچانک کشفی حالت طاری ہو گئی۔میں نے دیکھا کہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ تشریف لائے ہیں۔آپ کا دل مجھے سامنے نظر آ رہا ہے۔جس میں کئی روشن سورج چمک رہے ہیں۔جن کی چمک اور روشنی بڑے زور کے ساتھ ہمارے اوپر پڑ رہی ہے۔آپ کے دل کے سامنے میرا دل ہے۔جس میں بلب کی روشنی کے برابر روشنی نظر آتی ہے۔میں نے اس کشفی نظارہ سے اسی وقت میاں شمس الدین صاحب کو اطلاع دے دی۔اللہ تعالیٰ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نور اور برکت کو ا کناف عالم میں پھیلائے۔آمین قوت قدسیہ سید فضل شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر سنایا کرتے کہ میں ایک ہند دعورت کی محبت میں مبتلا ہو گیا۔حصولِ مقصد کے لئے بہت کوشش کی لیکن کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی آخر بعض عاملوں کے پاس پہنچا۔ان سے بھی مطلب براری نہ ہوئی۔اسی مایوسی اور سرگردانی کی حالت میں بعض احباب - معلوم ہوا کہ قادیان ضلع گورداسپور میں ایک مستجاب الدعوات بزرگ حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام رہتے ہیں۔چنانچہ میں قادیان پہنچا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے حضور حاضر ہو کر ساری سرگذشت بیان کر دی۔اور دعا کے لئے عرض کیا۔حضور نے میری عرض سن کر فر مایا کہ جب تک تعلق نہ ہو۔ایسی دعا جو مشکلات کو حل کر سکے نہیں ہوسکتی۔میں یہ ارشادسن کر گھر واپس آیا۔اور گھر کا تمام اثاثہ فروخت کر کے قادیان پہنچا۔اور وہ تمام روپیہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ کیسی رقم ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ دعا تعلق سے ہوتی ہے۔سو میں نے یہ رقم حضور کی خدمت میں پیش کر دی ہے تا کہ حضور سے تعلق پیدا ہو سکے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ شاہ صاحب ! اب آپ چند روز تک ہمارے پاس ٹھہر ہیں۔تا کہ ہم آپ کے لئے دعا کریں۔چنانچہ میں بخوشی رضا مند ہو گیا۔قادیان میں ابھی ایک ہفتہ کے قریب گذرا ہو گا کہ