حیات قدسی — Page 294
۲۹۴ شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ حضور اقدس کی زیارت کے لئے قادیان میں حاضر ہوئے تو خاکسار بھی ان دنوں قادیان میں تھا۔اتفاق حسنہ سے مہمان خانہ کے جس کمرہ میں میں ٹھہرا ہوا تھا۔اسی میں میرے ساتھ حضرت شہید مرحوم فروکش ہوئے۔آپ حضور اقدس علیہ السلام کی مجلس اور مسجد میں نمازوں کی ادائیگی کے علاوہ اپنے رہائشی کمرہ میں اکثر تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتے اور لوگوں سے باتیں بہت کم کرتے تھے۔انہی ایام میں جب حضرت اقدس علیہ السلام کرم دین کے مقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے تو شہید مرحوم بھی حضور کی معیت میں گئے۔خاکسار بھی اس کو سفر میں حضور اقدس کے ساتھ تھا۔جہلم میں حضور نے تقریر فرمائی اور حضرت صاحبزادہ صاحب کی وجہ سے پہلے فارسی میں تقریر شروع کی لیکن جب صاحبزادہ صاحب نے عرض کیا۔کہ حضور! میں اردو سمجھتا ہوں۔حضور اردو میں تقریر فرما ئیں۔تاکہ عام لوگ فائدہ اٹھا سکیں تو حضور نے اردو میں تقریر کرنی شروع فرما دی۔جب سید عبداللطیف صاحب قادیان سے رخصت ہونے لگے اور حضرت اقدس علیہ السلام احباب کی معیت میں صاحبزادہ صاحب کو رخصت کرنے کے لئے بٹالہ کی سڑک کے موڑ تک تشریف لے گئے اس وقت خاکسار بھی ساتھ تھا۔وہ دردناک اور روح پرور نظارہ مجھے اب تک یاد ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب اس ملاقات کو آخری ملاقات سمجھتے ہوئے حضور اقدس کے قدموں پر بے اختیار گر پڑے اور حضور نے کمال شفقت اور محبت سے صاحبزادہ صاحب کو اٹھایا اور تسلی آمیز کلمات فرمائے۔جب شہید مرحوم قادیان سے رخصت ہو کر لا ہور تشریف لے گئے۔تو آپ گمٹی بازار کی۔۔۔مسجد ( جس میں حضرت مولوی غلام حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام تھے ) کے پاس سے گذرے اور کسی دوست نے آپ کو بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس مسجد کے قریب سے گذرتے تھے تو حضرت شہید مرحوم نے مندرجہ ذیل شعر اپنے خاص لہجہ میں بلند آواز سے پڑھاے عجب که احمد محمد نیست بگیسوئے اطهر به این گند آمده آمده اللہ تعالیٰ ان کی مقدس روح کو اعلیٰ علیین میں ہر آن درجات کی بلندی عطا فرما تار ہے۔آمین